عادل آباد کی معروف دینی و سماجی شخصیت عبدالرشید صاحب انتقال کر گئے، تعزیتی پیغام میں خراجِ عقیدت پیش ۔ از: سید نصرت علی شاہ قادری چشتی صابری جامع سلاسل

از: سید نصرت علی شاہ قادری چشتی صابری جامع سلاسل

عادل آباد کی معروف دینی و سماجی شخصیت عبدالرشید صاحب انتقال کر گئے، تعزیتی پیغام میں خراجِ عقیدت پیش

عادل آباد۔20/جولائی(تلنگانہ وائس)

# تعزیتی پیغام جناب عبدالرشید صاحب وہ چراغ جن سے فائدہ اٹھانا چاہیے 

اللہ تعالیٰ نے اس دارِ فانی میں ہر انسان کو زندگی کا ایک مختصر موقع دے کر پیدا فرمایا ہے۔ وہ انسان بڑے مبارک ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں اپنے مقصد کو سامنے رکھ کر عارضی تعیشات و خواہشات کے بجائے تقویٰ، زہد و قناعت، سادگی پسندانہ زندگی اختیار کر لیتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ ایسے اللہ کے نیک بندے اکثر گمنامی و بے نامی میں رہتے ہیں۔ اکثر اللہ تعالیٰ بھی ایسے بندوں کو گمنامی یا اپنے وہ دوسروں کی طرف سے بے نامی کے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔ دیکھا جائے تو ان کی خدمتیں، قربانیاں، اپنوں پرایوں پر احسانات ایسے ہوتے ہیں کہ کبھی بھلائے نہیں جا سکتے، لیکن مشیتِ خداوندی ہوتی ہے کہ ان کو عوام کی نظروں سے چھپا دیا جاتا ہے۔ لیکن ان کا، ان کے کارنامے، ان کی زندگی، تقویٰ و طہارت، زہد و قناعت، ایثار و ہمدردی و کمالات ایسے ہوتے ہیں کہ قدر شناس، پاک نفوس اچھے انسانوں سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ گویا کہ روشن چراغ ہوتے ہیں جن سے روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔

موجودہ زمانہ قحط الرجال کا زمانہ ہے، ہر اچھے جانے والے کا بدل بظاہر ناممکن ہے۔ انہی لوگوں میں شخصیت جناب عبدالرشید صاحب عادل آباد کی معروف دینی و سماجی اور مذہبی شخصیت تھے، جو شروع ہی سے جماعت اسلامی سے وابستہ تھے۔ یہ تو وہ خوبیاں ہیں جو بہت سوں میں پائی اور دیکھی جا سکتی ہیں، جو ظاہری خدمات، علمی کارنامے، تقاریر، بیانات وغیرہ؛ لیکن وہ خوبی جو عام طور پر بہت کم لوگوں میں ڈھونڈنے سے ملتی ہے، وہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں، وہ ذاتی زہد و تقویٰ ہے۔ اس میں اپنی مثال آپ بھائی عبدالرشید صاحب مرحوم تھے۔ عام طور پر لوگوں پر علم، تقریر، تحریر، خدمتِ دین کا سکہ تو جم جاتا ہے، لیکن یہ بڑے خوبی کی بات ہے کہ ان کے بعد بھی لوگ ان کو زہد و تقویٰ سے یاد کریں۔ یہ زمانہ تو قیل و قال کا ہے، ذاتی زندگی میں تقویے کی مثالیں مشکل سے ملیں گی۔

تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں، لیکن موجودہ زمانے میں مشکل ہے۔ قرب کے زمانے کے ایک بزرگ، تبلیغ کے دوسرے امیر مولانا یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مرکز بستی حضرت نظام الدین میں مقیم تھے۔ ایک مرتبہ ان سے ملاقات کے لیے رشتہ دار رات میں تشریف لائے۔ کمرے میں حضرت حدیث کے مطالعے میں، جس اجتماعی کاموں میں مشغول تھے۔ رشتہ داروں کے کمرے میں آتے ہی فوراً لائٹ بند کر دی۔ بات چیت فرمائی، پھر اپنے گھر لے گئے، کھانا وغیرہ ہوا۔ مہمانوں نے پوچھا کہ آپ کمرے میں لائٹ کیوں بند کر دی تھی؟ حضرت جی نے فرمایا کہ وہ مرکز میں مرکز کے کام ہی کر رہا تھا، آپ میرے ذاتی مہمان ہو، آپ لوگوں سے بات چیت میرا ذاتی معاملہ ہے، مرکز کی لائٹ اور پنکھے کو اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کرنا تقویٰ کے خلاف سمجھتا ہوں۔ اللہ، اللہ! یہ ہے تقویٰ اور احساسِ جواب دہی۔

ایسا ہی ایک واقعہ میرے ایک عزیز نے بھائی عبدالرشید صاحب کا سنایا کہ ایک ہے حضرت آپ سے کسی ذاتی مشورے کے لیے، ملاقات کے لیے عبدالرشید صاحب کے آفس پر پہنچے۔ مشورے کا وقت طویل ہو گیا، یہاں تک کہ تین چار گھنٹے لگ گئے۔ مرحوم عبدالرشید صاحب نے آدھے دن کی رخصت کی درخواست لکھ کر آفس میں رکھ دی۔ انہوں نے پوچھا کہ ایسا کیوں؟ تو کہا کہ میں آفس میں آفس کا کام نہیں کیا، اس لیے آدھے دن کی رخصت لی تاکہ خیانت نہ ہو۔ اللہ! یہ ہے زہد و قناعت و تقویٰ اور جواب دہی کا احساس۔

اس زہد و تقویٰ میں اپنی زندگی گزار کر 18 جولائی کو قبل فجر کے اپنے مکان میں آخری سانس لی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے، درجات میں بلندی عطا فرمائے، پسماندگان، لواحقین و سوگواران و صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آخر کار عادل آباد کا ایک دیندار، زہد و تقویٰ کا ایک چراغ گل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی بھی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ خانقاہِ محمدی اجمیری نصرتی عادل آباد میں بعد نمازِ جمعہ ایصالِ ثواب اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ اللہ ہمارے حق میں، مرحوم اور تمام کے حق میں قبول فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

**از سید نصرت علی شاہ قادری چشتی صابری جامع سلاسل**