عادل آباد میں آئی ٹی صنعتوں کے قیام کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کیا جائے
آئی ٹی ٹاور کے افتتاح کے ساتھ کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے خصوصی پالیسی ضروری ۔ ایم ایل اے پائل شنکر
حیدرآباد۔11/ستمبر (تلنگانہ وائس) عادل آباد کے بی جے پی ایم ایل اے پائل شنکر نے تلنگانہ اسمبلی میں عادل آباد میں آئی ٹی شعبہ کے فروغ سے متعلق متعدد اہم امور حکومت کے سامنے پیش کیے۔ انہوں نے ریاستی آئی ٹی وزیر سے مطالبہ کیا کہ عادل آباد میں تعمیر شدہ آئی ٹی ٹاور کا فوری افتتاح کیا جائے۔
Advertising

ایم ایل اے نے کہا کہ صرف آئی ٹی ٹاور کی تعمیر اور افتتاح سے آئی ٹی کمپنیوں کو عادل آباد لانا ممکن نہیں ہوگا، بلکہ کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے خصوصی پالیسی اور مراعات فراہم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد جیسے بڑے شہروں سے دور واقع عادل آباد جیسے علاقوں میں آئی ٹی کمپنیوں کے قیام کے لیے خصوصی انسینٹیو پالیسی متعارف کرائی جائے۔ آئی ٹی ٹاور میں سرگرمیاں شروع کرنے والی کمپنیوں کو سبسڈی، مفت یا رعایتی کلاؤڈ ڈیٹا سہولیات سمیت دیگر مراعات فراہم کی جائیں، تاکہ مقامی انجینئرنگ گریجویٹس اور نوجوانوں کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
Advertising

پائل شنکر نے عادل آباد میں ڈیٹا سنٹر قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، خصوصاً ڈیٹا سنٹر کی سہولت دستیاب ہونے سے آئی ٹی اور ٹیکنالوجی پر مبنی اداروں کو عادل آباد کی جانب راغب کرنے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔
Advertising

Advertising

انہوں نے کہا کہ عادل آباد سے حیدرآباد تقریباً 350 کلومیٹر دور ہونے کے باعث مقامی طلبہ کو انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے عادل آباد میں سرکاری انجینئرنگ کالج قائم کیا جانا چاہیے۔
Advertising

ایم ایل اے نے کہا کہ عادل آباد میں آئی ٹی ٹاور، ڈیٹا سنٹر اور انجینئرنگ تعلیمی اداروں کو مربوط انداز میں فروغ دے کر شمالی تلنگانہ میں ایک نیا آئی ٹی ایکو سسٹم قائم کیا جاسکتا ہے، جس سے مقامی نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کی ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
پائل شنکر نے حکومت سے اپیل کی کہ عادل آباد کو صرف آئی ٹی ٹاور والے علاقے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے آئی ٹی اور ٹیکنالوجی صنعتوں کے لیے ایک موزوں مرکز کے طور پر ترقی دینے کے لیے خصوصی ایکشن پلان تیار کیا جائے۔

