قانون سب کے لیے برابر، سب کے ساتھ یکساں سلوک کیوں نہیں؟ عادل آباد میں گنیش چترتھی کے موقع پر فٹ پاتھوں پر عارضی دکانات، شہریوں نے یکساں پالیسی پر اٹھائے سوالات

قانون سب کے لیے برابر، سب کے ساتھ یکساں سلوک کیوں نہیں؟

Law is Equal for Everyone

عادل آباد میں گنیش چترتھی کے موقع پر فٹ پاتھوں پر عارضی دکانات، شہریوں نے یکساں پالیسی پر اٹھائے سوالات

عادل آباد، 14/ ستمبر(تلنگانہ وائس) گنیش چترتھی کے پیش نظر آج بروز پیر عادل آباد مستقر کے مختلف بازاروں میں خاصی رونق دیکھی گئی۔ امبیڈکر چوک، گاندھی چوک، ونایک چوک اور اطراف کے علاقوں میں رنگ برنگی اور مختلف اشکال کی گنیش مورتیوں کے ساتھ ساتھ ماحول دوست مٹی سے تیار کردہ مورتیوں کو بھی فروخت کے لیے سجایا گیا تھا۔

تہوار کے پیش نظر پوجا کے لیے درکار مختلف اقسام کے پتے، پھول، آم کے پتے اور دیگر ضروری اشیاء بھی بازاروں میں دستیاب رہیں۔ خریداری کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد کے پہنچنے سے بازاروں میں گہماگہمی کا ماحول رہا۔ ماحول دوست انداز میں تہوار منانے میں دلچسپی رکھنے والے کئی افراد نے مٹی سے تیار کردہ گنیش مورتیوں کی خریداری کو ترجیح دی۔

دوسری جانب، تہوار کے پیش نظر امبیڈکر چوک، گاندھی چوک، ونایک چوک اور اطراف کے علاقوں میں فٹ پاتھوں پر متعدد عارضی دکانات بھی قائم کی گئیں، جہاں چھوٹے تاجروں نے تہوار سے متعلق اشیاء فروخت کیں۔ اس صورتحال نے شہری حلقوں میں قانون کے یکساں اطلاق اور فٹ پاتھوں پر تجارت سے متعلق پالیسی پر ایک مرتبہ پھر بحث چھیڑ دی ہے۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس خبر کا مقصد کسی بھی  طبقے یا تہوار کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں، بلکہ شہریوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے ایک اہم سوال کو متعلقہ حکام اور عوام کے سامنے رکھنا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں یاد ہے کہ ٹریفک میں رکاوٹ اور عوامی آمدورفت میں مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے برسوں سے فٹ پاتھوں پر کاروبار کرنے والے متعدد اسٹریٹ وینڈرس کو وہاں سے ہٹایا گیا تھا۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں نے اس کارروائی کو سیاسی تناظر سے بھی جوڑا، جبکہ فٹ پاتھ تاجروں کو مخصوص مقامات پر تجارت کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے؟ کہ مقررہ مقامات کے بجائے مختلف چوراہوں یا عوامی راستوں پر تجارت کرنے والے چھوٹے تاجروں کے خلاف قانونی کارروائی اور جرمانوں کی کارروائی بھی کی جاتی رہی ہے! مزید برآں، عیدین جیسے اہم تہواروں کے مواقع پر بھی فٹ پاتھوں یا عوامی مقامات پر عارضی دکانات قائم کرنے کے لیے مجلس بلدیہ کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں!

Advertising

ایسے میں بعض انصاف پسند شہریوں کا سوال ہے کہ اگر فٹ پاتھ یا عوامی گزرگاہ پر عارضی تجارت ٹریفک اور عوامی آمدورفت میں رکاوٹ کے باعث ممنوع ہے تو اس قانون کا اطلاق ہر شخص، ہر تاجر اور ہر تہوار کے موقع پر یکساں طور پر ہونا چاہیے۔

Advertising

شہریوں کے مطابق قانون کا مقصد کسی ایک طبقے کو سہولت دینا یا کسی دوسرے طبقے کو محدود کرنا نہیں، بلکہ شہر میں ٹریفک کی روانی، عوامی سہولت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہونا چاہیے۔ اگر کسی تہوار کے موقع پر عارضی تجارت کے لیے خصوصی اجازت یا انتظام کیا جاتا ہے تو یہی اصول دیگر تہواروں اور تمام طبقات کے چھوٹے تاجروں کے لیے بھی واضح اور یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔

Advertising

قانون سب کے لیے برابر ہے، اس لیے پالیسی بھی سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جو بعض باشعور اور انصاف پسند شہری ضلعی انتظامیہ اور مجلس بلدیہ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور مجلس بلدیہ فٹ پاتھوں، اسٹریٹ وینڈرس، عارضی دکانات اور تہواروں کے دوران ہونے والی تجارت کے حوالے سے ایک واضح، شفاف اور غیر جانب دار پالیسی وضع کریں، تاکہ آئندہ کسی بھی طبقے میں امتیازی سلوک یا دوہرے معیار کا احساس پیدا نہ ہو۔

ساتھ ہی، یہ بھی ضروری ہے کہ تہواروں کے موقع پر چھوٹے تاجروں کے روزگار اور عوامی سہولت، دونوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب متبادل مقامات فراہم کیے جائیں، تاکہ نہ ٹریفک متاثر ہو اور نہ ہی کسی غریب یا چھوٹے تاجر کا روزگار غیر ضروری طور پر متاثر ہو۔

وضاحت

ہماری رپورٹنگ  کا مقصد کسی ایک طبقے  کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ زمینی حقائق، شہریوں کے سوالات اور عوامی مفاد کے مسائل کو ذمہ دارانہ انداز میں متعلقہ حکام تک پہنچانا ہے۔ یہی صحافت کا بنیادی کردار ہے کہ وہ عوام، انتظامیہ اور سیاسی و سماجی قیادت کے درمیان ایک مثبت اور تعمیری رابطے کا ذریعہ بنے۔

Advertising

اس معاملے میں سیاسی و سماجی قیادت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ جذباتی یا طبقاتی زاویے کے بجائے برابری، قانون کی بالادستی اور منصفانہ پالیسی کی حمایت کرے، تاکہ عادل آباد میں ہر طبقے اور ہر چھوٹے تاجر کے لیے ایک ہی اصول اور ایک ہی قانون نافذ ہو۔

Law is Equal for Everyone

قانون سب کے لیے برابر — سب کے ساتھ یکساں سلوک۔