ترقی ہی ہماری سیاست، آئندہ ڈھائی برس تلنگانہ کی تعمیر و ترقی کے نام: وزیراعلیٰ ریونت ریڈی

ترقی ہی ہماری سیاست، آئندہ ڈھائی برس تلنگانہ کی تعمیر و ترقی کے نام: وزیراعلیٰ ریونت ریڈی

حیدرآباد، 9 /جون

تلنگانہ وائس نیوز ڈیسک
"عوام کی آواز، سچ کے ساتھ”

Telangana Govt News

ریاستی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے آئندہ ڈھائی برس مسلسل محنت اور منصوبہ بند انداز میں کام کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ تلنگانہ نے کہا کہ وہ سیاست سے بالاتر ہوکر ریاست کی ترقی کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ ملک کے بڑے میٹرو شہروں کو درپیش مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے حیدرآباد کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق جدید اور منظم شہر کے طور پر ترقی دی جائے گی۔

پراجا پالنا – پرگتی پرنالیکا پروگرام کے تحت وزیراعلیٰ نے سائبرآباد میونسپل کارپوریشن کے نئے ہیڈکوارٹر سمیت مجموعی طور پر 1,674.74 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا اور مختلف منصوبوں کا افتتاح انجام دیا۔

میّاپور کراس روڈس پر منعقدہ عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ملک کے معیار کا ایک جدید بین الاقوامی بس ٹرمینل گجولارامارم، ملکاجگیری میں 100 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے پر آئندہ تین ماہ کے اندر کام کا آغاز کردیا جائے گا۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد میٹروپولیٹن خطے کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے میٹرو توسیع، موسیٰ ندی کی صفائی، تلنگانہ ریجنل رنگ روڈ اور ریڈیل روڈس جیسے بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میٹرو ریل کو رائدرگم سے نیوپولیس تک توسیع دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صرف حیدرآباد کو عالمی شہر قرار دینا کافی نہیں بلکہ اس کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت سائبرآباد اور ملکاجگیری میونسپل کارپوریشن کی جدید عمارتیں تمام سہولیات کے ساتھ تعمیر کی جارہی ہیں۔

غریب خاندانوں کے لیے رہائش کے مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت حیدرآباد شہر میں ایک لاکھ ایل آئی جی اور ایم آئی جی مکانات تعمیر کرکے مستحقین میں تقسیم کرنے کے منصوبہ پر کام کررہی ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری اراضی کی نشاندہی کا عمل جاری ہے تاکہ لوگوں کو انہی علاقوں میں مکانات فراہم کیے جاسکیں جہاں وہ برسوں سے مقیم ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہلی، ممبئی، کولکاتا، بنگلورو اور چنئی جیسے بڑے شہر آلودگی، ٹریفک اور سیلابی مسائل سے دوچار ہیں۔ تلنگانہ حکومت ان شہروں کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل کی نسلوں کو بہتر شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے واضح حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آؤٹر رنگ روڈ کے اندر اس وقت تقریباً 1.34 کروڑ آبادی رہائش پذیر ہے جبکہ روزگار اور کاروبار کی غرض سے دیگر اضلاع، ریاستوں اور ممالک سے لوگ مسلسل حیدرآباد کا رخ کر رہے ہیں۔ شہر کی آبادی میں سالانہ تقریباً 3 فیصد اضافہ ہورہا ہے، جس کے پیش نظر انتظامی اصلاحات ناگزیر تھیں۔

اسی مقصد کے تحت 2100 مربع کلومیٹر پر مشتمل گریٹر حیدرآباد علاقے کو تین الگ کارپوریشنوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں 150 ڈویژنس، سائبرآباد میں 76 اور ملکاجگیری میونسپل کارپوریشن میں 74 ڈویژنس قائم کیے گئے ہیں۔ پولیس کمشنریٹس کی تنظیم نو بھی اسی بنیاد پر کی گئی ہے۔

ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات صرف اور صرف ترقی کے لیے کیے گئے ہیں۔ ترقی کے معاملے میں کوئی سیاسی امتیاز یا تعصب نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ انتخابات سے قبل سیاست ضرور کریں، لیکن اس وقت ریاست اور عوام کی ترقی کے لیے متحد ہوکر تعاون کریں۔

اس پروگرام میں وزیر ، رکن پارلیمنٹ ، ، سرکاری مشیر ، ارکان اسمبلی اور دیگر عوامی نمائندوں کے علاوہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔