آدیواسی خواتین پر حملے اور غیر قانونی گرفتاریاں ناقابلِ قبول ۔ گوڈم گنیش

آدیواسی خواتین پر حملے اور غیر قانونی گرفتاریاں ناقابلِ قبول: گوڈم گنیش

عادل آباد/نرمل، 18 /جون (تلنگانہ وائس)  آدیواسی حقوق کی تنظیم "تُڈم دیبہ” کے ریاستی صدر گوڈم گنیش نے ضلع نرمل کے کڈیم منڈل کے گونڈوگوڑم گاؤں میں آدیواسی خواتین اور دیگر آدیواسی افراد پر محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کی جانب سے مبینہ حملوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔

جاری کردہ پریس نوٹ میں انہوں نے کہا کہ گونڈوگوڑم اور مائسم پیٹ دیہات کے آدیواسی گزشتہ 30 برسوں سے زیرِ کاشت اراضی پر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے انہیں حقِ ملکیت کے دستاویزات فراہم کرنے کے بجائے دونوں دیہات کے آدیواسیوں کے درمیان اختلافات پیدا کیے جا رہے ہیں۔

گوڈم گنیش نے الزام عائد کیا کہ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے زبردستی زمینوں کی حد بندی کرتے ہوئے آدیواسی خواتین اور مردوں پر حملے کیے اور متعدد افراد کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا، جو جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے منافی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے گئے تمام آدیواسیوں کو فوری طور پر غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف درج تجاوزات کے مقدمات واپس لیے جائیں۔

تُڈم دیبہ کے ریاستی صدر نے کہا کہ آدیواسیوں کے حقوق کو پامال کرنے والا رویہ کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنگلاتی اراضی پر کاشت کرنے والے آدیواسیوں کو 2006 کے فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت فوری طور پر حقوقِ اراضی کے پٹّے جاری کیے جائیں اور ان کے زمینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

اس موقع پر ریاستی مشترکہ سکریٹری ویٹی منوج، ریاستی سکریٹری ارک شیشا راؤ، آدیواسی خواتین سنگھم کی ضلعی صدر گودم رینوکا، ضلعی نائب صدر اوئیک اندرا، عادل آباد ڈویژن صدر آترم گنپتی، طلبہ تنظیم کے ضلعی تشہیری سکریٹری اورویت رجنیکانت، ماول منڈل صدر ویڈم مکند راؤ، تُڈم دیبہ کے مشیر پُسنک رمیش، پُشنک ہنمنتھو، کمرا گووند راؤ، کمرا ملکو، مڈاوی مانک، پیندور ناگیش اور دیگر کارکنان موجود تھے۔