عادل آباد ضلع میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں نمایاں بہتری
بارش کے پانی کو محفوظ کرکے زیرِ زمین آبی ذخائر میں مزید اضافہ کیا جائے ۔ ضلع کلکٹر راجَرشی شاہ
عادل آباد، 11/ اگست(تلنگانہ وائس)ضلع کلکٹر راجَرشی شاہ نے کہا کہ رواں سال ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں عادل آباد ضلع میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے عوام اور کسانوں سے اپیل کی کہ اس سازگار صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بارش کے پانی کو محفوظ کریں اور زیرِ زمین آبی ذخائر کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
اشتہار۔۔۔۔۔Advertising

محکمہ زیرِ زمین آب نے اگست 2026 کے حوالے سے ضلع کے 26 پیزومیٹرز کے ذریعے زیرِ زمین پانی کی سطح اور بارش سے متعلق تفصیلات جاری کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 10 اگست تک ضلع میں زیرِ زمین پانی کی اوسط سطح زمین کی سطح سے 4.23 میٹر کی گہرائی پر ریکارڈ کی گئی۔
Advertising

جولائی 2026 میں زیرِ زمین پانی کی سطح 7.55 میٹر تھی، جس کے مقابلے میں موجودہ سطح میں 3.32 میٹر بہتری آئی ہے۔ اسی طرح مئی 2026 میں ریکارڈ کی گئی 9.78 میٹر کی سطح کے مقابلے میں 5.55 میٹر کا اضافہ ہوا ہے۔
Advertising

تاہم گزشتہ سال اگست 2025 میں زیرِ زمین پانی کی سطح 1.71 میٹر تھی، جس کے مقابلے میں رواں سال یہ سطح 2.52 میٹر نیچے ہے۔ اسی طرح گزشتہ پانچ سال کے اگست کے اوسط 3.05 میٹر کے مقابلے میں بھی 1.18 میٹر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ کلکٹر نے کہا کہ اس صورتحال کے پیش نظر زیرِ زمین پانی کے تحفظ پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اشتہار۔۔۔۔۔۔Advertising

ضلع میں سب سے زیادہ گہرائی پر زیرِ زمین پانی کی سطح اندراویلی منڈل کے متنور گاؤں میں 9.10 میٹر ریکارڈ ہوئی، جبکہ سب سے کم گہرائی یعنی بہتر آبی سطح نارنور منڈل کے نارنور گاؤں میں 0.30 میٹر درج کی گئی۔
Advertising

منڈل سطح کی صورتحال کے حوالے سے کلکٹر نے بتایا کہ ضلع میں کوئی بھی منڈل ایسا نہیں جہاں زیرِ زمین پانی کی سطح 10 میٹر سے زیادہ گہرائی میں ہو، جو ایک مثبت صورتحال ہے۔ 5 سے 10 میٹر کی گہرائی میں بھیم پور، اندراویلی، سری کونڈہ، سونال، بوتھ اور نیرڈی گونڈہ منڈل شامل ہیں، جبکہ دیگر متعدد منڈلوں میں پانی کی سطح 5 میٹر سے کم گہرائی میں ہے۔
Advertising


بارش کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں عام طور پر 642.4 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے، تاہم 10 اگست تک صرف 529.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ضلع میں 18 فیصد بارش کی کمی برقرار ہے۔ ضلع کے 21 منڈلوں میں سے 11 منڈلوں میں معمول کے مطابق بارش ہوئی، جبکہ 10 منڈلوں میں بارش کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

کلکٹر راجَرشی شاہ نے کسانوں اور عوام سے اپیل کی کہ زیرِ زمین پانی کو طویل مدت تک محفوظ رکھنے کے لیے بارش کے پانی کو زیادہ سے زیادہ محفوظ کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے جغرافیائی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فارم پونڈز، پرکولیشن ٹینکس، چیک ڈیمز، کنٹور بنڈنگ اور دیگر ری چارج ڈھانچے تعمیر کیے جائیں۔
Advertising

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نافذ کردہ جل سیری اسکیم کے تحت دیہی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی مصنوعی ری چارجنگ کے ڈھانچوں کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا جائے۔ شہری علاقوں میں بھی عوام رضاکارانہ طور پر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام قائم کریں۔
Advertising
The Best Management Software for Madrasas, Schools, Colleges & NGOs
مدارس اسکولس کالجس اور رفاہی فلاحی اداروں کے لیے بہترین سوفٹویئر

کلکٹر نے کہا کہ زیرِ زمین آبی ذخائر کا تحفظ ہی آنے والی نسلوں کے لیے پانی کے وافر وسائل کی ضمانت ہے۔

