عادل آباد میں اقلیتی قیادت کی مصروفیات پر سوالات، مسلم مسائل پر سنجیدہ توجہ نہ دینے کا تاثر ۔ عادل آباد کے اقلیتی عوام کانگریس وزراء کے دورے سے مایوس
عادل آباد، 28 /جون (تلنگانہ وائس)
ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین، وزیر جوپلی کرشنا راؤ، حکومتی مشیر محمد علی شبیر، ٹی ایم آر ای آئی ایس کے چیئرمین فہیم قریشی، تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے چیئرمین عبیداللہ کوتوال اور ریاستی سیکریٹری بی شفیع اللہ نے 27 جون کو عادل آباد کا دورہ کرتے ہوئے مختلف سرکاری ترقیاتی پروگراموں میں شرکت کی۔
دورے کے دوران بنگاری گوڑہ میں تقریباً 20 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ اقلیتی اقامتی اسکول و کالج (بوائز-II) کا افتتاح عمل میں آیا۔ اس موقع پر مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا، شجرکاری کی گئی اور قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ایم پی ناگیش، ارکان اسمبلی پائل شنکر، ویڈمابھوجو پٹیل، ضلع کلکٹر، ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ،ضلع اقلیتی بہبود آفیسر شیخ کلیم احمد، بلدیہ چیئرپرسن، وائس چیئرمین، کانگریس قائدین اور دیگر عوامی نمائندے بھی موجود تھے۔

بعد ازاں وزراء اور اعلیٰ حکام شہر کے کے آر کے کالونی میں واقع نو تعمیر شدہ اقلیتی اقامتی گرلز اسکول و کالج کی عمارتوں کے افتتاح کے لیے روانہ ہوئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق وزراء نے ایک عمارت کا افتتاح کیا، جبکہ بارش کا حوالہ دیتے ہوئے بقیہ رسمی کارروائیاں تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے چیئرمین عبیداللہ کوتوال، ریاستی سیکریٹری بی شفیع اللہ، ضلع کلکٹر، ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کے سپرد کر دی گئیں۔ بعد ازاں وزیر جوپلی کرشنا راؤ حیدرآباد روانہ ہوگئے، جبکہ وزیر محمد اظہر الدین، محمد علی شبیر اور فہیم قریشی شہر کے ایک کانگریس رہنما کی رہائش گاہ پر گئے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کے آر کے کالونی میں واقع اقلیتی اقامتی اسکول و کالج (گرلز 1 اور 2) میں عبیداللہ کوتوال، بی شفیع اللہ، ضلع کلکٹر، ضلع ایس پی اور دیگر اعلیٰ حکام نے افتتاحی تقریب کی بقیہ کارروائیاں انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے ادارے کے ذمہ داران اور طالبات سے ملاقات کی، تعلیمی و انتظامی امور کا جائزہ لیا، درپیش مسائل دریافت کیے اور طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں بہتر تعلیم اور روشن مستقبل کے لیے محنت کرنے کی تلقین کی۔
دورے کے بعد مقامی مسلم حلقوں میں مختلف قسم کے ردعمل سامنے آئے۔ کئی سماجی و سیاسی شخصیات کا کہنا ہے کہ عادل آباد جیسے پسماندہ ضلع میں مسلمانوں کو درپیش تعلیمی، سماجی اور فلاحی مسائل پر تبادلۂ خیال کے لیے علماء، مسلم قائدین، سماجی کارکنوں اور اردو صحافیوں کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس یا پریس کانفرنس منعقد کی جا سکتی تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
مقامی حلقوں کے مطابق اقلیتی بہبود کے وزیر بننے کے بعد محمد اظہر الدین اور ٹی ایم آر ای آئی ایس کے چیئرمین کی حیثیت سے فہیم قریشی کا یہ پہلا دورۂ عادل آباد تھا، اس لیے عوام کو اس دورے سے کافی توقعات وابستہ تھیں۔ تاہم بعض افراد کا خیال ہے کہ سرکاری پروگراموں میں شرکت کے باوجود مقامی اقلیتی مسائل پر تفصیلی گفتگو یا نمائندہ وفود سے باضابطہ ملاقات نہیں ہو سکی۔
اسی طرح اردو صحافیوں نے بھی شکوہ کیا کہ دورے کے دوران ان کے لیے کوئی علیحدہ میڈیا بریفنگ یا پریس کانفرنس منعقد نہیں کی گئی، جبکہ تلگو میڈیا کو مختصر بیان جاری کیا گیا۔
دوسری جانب سرکاری ذرائع کے مطابق دورے کا بنیادی مقصد نئے اقامتی تعلیمی اداروں کا افتتاح اور ترقیاتی پروگراموں میں شرکت تھا۔ تاہم عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ آئندہ ایسے دوروں میں مقامی اقلیتی مسائل پر خصوصی اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ عوام کی توقعات پر بہتر انداز میں پورا اترا جا سکے۔

محمد اظہر الدین، فہیم قریشی، محمد علی شبیر کو چاہیے تھا کہ ضلع عادل آباد کے اقلتی اقامتی اسکولس و کالجس میں تعلیم و تربیت، حالات کا جائزہ لیتیے، مقامی مذہبی قائدین اور مسلم سیاسی و سماجی شخصیات کا اجلاس طلب کرتے، اور اردو صحافیوں کی ایک پریس کانفرنس طلب کرتے، ان سے علحیدہ علحیدہ مسلم مسائل پر بات کرتے ، کیوںکہ انتخابات کے دوران کانگریس نے میناریٹی ڈیکلیریشن نکالا کئی وعدے کئے۔ سبسیڈی قرضہ جات، اسکالر شپ، خواتین کے لئے ماہانہ وظائف، آئمہ و موذنین کے اعزایہ میں اضافہ ،اردو اساتذہ کی تقرری و دیگر اقلیتی مسائل پر بات کرتے لیکن صرف رسمی دورے نے مقامی طور پر کئی ایک سوالات کو جنم دیا ہے۔

