خواتین اپنی فطری محبت کو دین کی اشاعت کا ذریعہ بنائیں -تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد کے زیرِ اہتمام خواتین کے عظیم الشان اصلاحی اجلاس سے مفتی محمد مصطفی مظاہری کا فکر انگیز خطاب

خواتین اپنی فطری محبت کو دین کی اشاعت کا ذریعہ بنائیں

تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد کے زیرِ اہتمام خواتین کے عظیم الشان اصلاحی اجلاس سے مفتی محمد مصطفی مظاہری کا فکر انگیز خطاب

عادل آباد۔30/جون (تلنگانہ وائس)مولانا ناظم خان قاسمی منتظم تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد کی اطلاع کے بموجب تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد کے زیرِ اہتمام شہر کے مختلف محلوں میں خواتین کی دینی بیداری، اصلاحِ معاشرہ اور تربیتِ نسل کے مقصد سے اصلاحی اجتماعات کا سلسلہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر 29 جون بروز پیر کو دارالعلوم زکریا، کے آر کے کالونی، عادل آباد میں "اصلاحِ معاشرہ میں مومنہ خواتین کا کردار” کے عنوان سے ایک روح پرور اور بصیرت افروز اجلاس منعقد ہوا، جس میں خواتین کی بڑی تعداد نے نہایت شوق و انہماک کے ساتھ شرکت کی۔

اجلاس کی صدارت مولانا سید رضوان صاحب اسعدی، صدر تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد نے فرمائی، جبکہ نگرانی مولانا ساجد الحسن صاحب قاسمی نے کی۔ اس موقع پر ضلع عادل آباد کے ممتاز عالمِ دین، مفتی محمد مصطفی صاحب مظاہری، امام و خطیب مسجد عرفات عادل آباد، بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے اور نہایت مؤثر، مدلل اور ایمان افروز خطاب فرمایا۔

اپنے خطاب میں مفتی صاحب نے فرمایا کہ تاریخِ اسلام اس حقیقت کی روشن گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں صالح اور باکردار خواتین کے ذریعے معاشرے کی تعمیر، نسلوں کی اصلاح اور دین کی سربلندی کا عظیم کام لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اولیاء، محدثین، علماء اور اکابرین کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے پس منظر میں ایک نیک، باعمل اور خدا ترس ماں کی تربیت نمایاں نظر آتی ہے۔ حضرت عمرؓ کے قبولِ اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے ان کی بہن کی استقامت اور قربانی کو ایمان کی دولت نصیب ہونے کا اہم ذریعہ قرار دیا اور فرمایا کہ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ولیوں کو جنم دینے والی مائیں خود بھی کردار سازی کا عظیم نمونہ ہوتی ہیں۔

مفتی صاحب نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے دل میں محبت، شفقت، نرمی اور ایثار کا ایک بے مثال جذبہ رکھا ہے۔ یہی محبت والدین، بھائی، شوہر اور اولاد کے ساتھ مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر یہی محبت، حکمت اور حسنِ اخلاق اپنے عزیز و اقارب کی دینی اصلاح، نماز کی پابندی، اسلامی تعلیمات پر عمل اور دعوتِ دین کے لیے استعمال کی جائے تو گھروں سے لے کر پورے معاشرے تک خیر و صلاح کا خوشگوار انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد کی دینی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسے ادارے امت کے لیے امید کی کرن ہیں، جو خاموشی کے ساتھ معاشرے کی فکری اور اخلاقی تعمیر میں مصروفِ عمل ہیں۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ ان دینی کوششوں سے وابستہ ہوں، ان سے استفادہ کریں اور اپنے گھروں کو دینی ماحول کا گہوارہ بنائیں۔

صدرِ اجلاس مولانا سید رضوان اسعدی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اگر خواتین عزم، اخلاص اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہر محلہ اور ہر بستی میں دعوتِ دین، تبلیغِ دین اور حفاظتِ دین کی مضبوط فضا قائم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تعلیم المسلمین ٹرسٹ عادل آباد کی جانب سے خواتین کے لیے ششماہی "دین فہمی کورس” کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے لیے عالمہ صاحبہ اور مناسب مقام کا انتخاب مکمل ہوچکا ہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد اس کا باقاعدہ آغاز ہوگا، تاکہ مختلف عمر کی خواتین قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات، اسلامی احکام اور عملی دینی تربیت سے مستفید ہوسکیں۔

پروگرام کا آغاز مولانا جنید کی پرسوز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جبکہ دارالعلوم زکریا کے ایک طالب علم نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ نظامت کے فرائض مولانا ساجد الحسن قاسمی، مہتمم دارالعلوم زکریا نے انجام دیے۔ آخر میں خواتین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی ذات، اپنے گھروں اور اپنے معاشرے میں دینی ماحول کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گی۔