850 کلو مشتبہ ملاوٹی گھی ضبط، ریاست بھر میں فوڈ سیفٹی حکام کی خصوصی کارروائیاں
حیدرآباد۔17/جولائی(تلنگانہ وائس) ریاست میں ملاوٹی گھی کی تیاری اور فروخت کے خلاف فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ نے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کردی ہے۔ فوڈ سیفٹی کمشنر ڈاکٹر سنگیتا ستیہ نارائن نے بتایا کہ 14 اور 15 جولائی کو پولیس کے تعاون سے ریاست بھر میں خصوصی تلاشی مہم چلائی گئی۔

حکام نے بعض اداروں میں گھی کے اندر پام آئل، ونسپتی اور دیگر نباتاتی چکنائیوں کی ملاوٹ کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ کئی مقامات پر بغیر لائسنس اور رجسٹریشن کے گھی تیار اور فروخت کرنے کا بھی انکشاف ہوا۔

حیدرآباد کے کیور علاقے میں 14 اداروں کی تلاشی لے کر گھی کے 15 نمونے حاصل کئے گئے۔ استعمال کے قابل نہ ہونے پر 60 کلو گھی موقع پر ہی تلف کردیا گیا، جبکہ 850 کلو مشتبہ ملاوٹی گھی ضبط کیا گیا۔
Advertising

ریاست کے مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 65 اداروں کی جانچ کی گئی اور 91 گھی کے نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے روانہ کئے گئے۔ قواعد کی خلاف ورزی پر 5 اداروں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔
Advertising

کمشنر نے بتایا کہ فوڈ سیفٹی قوانین کے مطابق گھی میں کم از کم 99.5 فیصد دودھ کی چکنائی ہونی چاہئے، جبکہ پام آئل اور ونسپتی جیسی نباتاتی چکنائیوں کی ملاوٹ ممنوع ہے۔ لیبارٹری رپورٹس کی بنیاد پر خاطیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

فوڈ سیفٹی کمشنر نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ صرف لائسنس یافتہ اور معتبر اداروں سے گھی خریدیں، خریداری سے قبل FSSAI لائسنس نمبر اور مینوفیکچرنگ لیبل ضرور چیک کریں اور خریداری کی رسید محفوظ رکھیں۔ ملاوٹی اشیائے خوردونوش یا بغیر لائسنس کاروبار کی اطلاع فوری طور پر فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ کو دینے کی اپیل کی گئی ہے۔


