₹30 لاکھ کی اراضی دھوکہ دہی کا معاملہ، اہم ملزم گرفتار
حکومت سے متبادل اراضی حاصل کرنے کے بعد پلاٹس بناکر فروخت کرنے کا الزام، دوسرا ملزم مفرور ۔ موالا پولیس
عادل آباد، 22/ اگست(تلنگانہ وائس)موالا پولیس اسٹیشن حدود کے دسنّاپور گاؤں میں تقریباً 30 لاکھ روپے کی اراضی دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت کے معاملہ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اہم ملزم کو گرفتار کرلیا۔ موالا ایس ایچ او بی۔ڈی۔ پریم کمار نے بتایا کہ کیس کے اہم ملزم درتلا جیون (66) کو 21 اگست کو گرفتار کیا گیا۔
Advertising

پولیس کے مطابق شکایت کنندہ جکّلا نارائنا نے 1987 میں دسنّاپور کی سروے نمبر 21/1، نئی سروے نمبر 21/18 میں واقع پلاٹ نمبر 37 رجسٹری کے ذریعہ خریدا تھا۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے مذکورہ اراضی حاصل کئے جانے پر اراضی مالک آرے لسمبائی نے حکومت سے متبادل کے طور پر سروے نمبر 72/33 اور 72/27 میں مجموعی طور پر 10 ایکڑ اراضی حاصل کی۔
Advertising

شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ پہلے ہی فروخت کی جاچکی اراضی کو حکومت کے سامنے پیش کرتے ہوئے متبادل اراضی حاصل کی گئی اور بعد میں اس اراضی کو بھی پلاٹس میں تقسیم کرکے دوسروں کو فروخت کردیا گیا۔ شکایت کنندہ کی جانب سے اپنے حق میں آنے والا متبادل پلاٹ دینے کا مطالبہ کرنے پر مبینہ طور پر انکار اور دھمکیاں دی گئیں، جس کے نتیجے میں اسے تقریباً 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔
Advertising

شکایت کی بنیاد پر موالا پولیس نے کرائم نمبر 163/2026 درج کرتے ہوئے دفعہ 420، 406 r/w 3(5) BNS کے تحت تحقیقات شروع کیں۔
Advertising

گرفتار ملزم کی شناخت درتلا جیون، ولد درتلا ابّنا، عمر 66 سال، پیشہ ریٹائرڈ ٹیچر، ساکن اولڈ ہاؤسنگ بورڈ، عادل آباد کے طور پر کی گئی ہے۔ جبکہ دوسرا ملزم آرے لسمبائی، زوجہ نرسِملو مفرور بتائی گئی ہے اور پولیس اس کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔
Advertising

ایس ایچ او بی۔ڈی۔ پریم کمار نے بتایا کہ معاملہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔


