رام پور-ٹی اراضی قبضہ کیس میں اہم پیش رفت
جعلی وراثتی سرٹیفکیٹ کے ذریعے زمین پر قبضے کی کوشش، ڈاکیومنٹ رائٹر محمد فیض الدین صدیقی عرف ساحرگرفتار ۔ ڈی ایس پی ایل۔ جیون ریڈی
عادل آباد، 10/ ستمبر(تلنگانہ وائس) جینتھ پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع رام پور-ٹی گاؤں میں جعلی دستاویزات اور فرضی رجسٹریشن کے ذریعے وراثتی زرعی اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کے معاملے میں پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے اس کیس میں ریمانڈ پر موجود ملزم محمد ابراہیم اکبانی عرف ماملا سیٹھ کو ایک دن کی پولیس تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کی، جس کے دوران جعلی دستاویزات کی تیاری میں ڈاکیومنٹ رائٹر محمد فیض الدین صدیقی عرف ساحر کے کردار سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئیں۔

ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی کے مطابق تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر ڈاکیومنٹ رائٹر محمد فیض الدین صدیقی عرف ساحر کو چہارشنبہ کے روز گرفتار کیا گیا اور جمعرات کو عدالت کے احکامات کے مطابق اسے ضلع جیل منتقل کردیا گیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے جعلی وراثتی سرٹیفکیٹ اور دیگر دستاویزات تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈی ایس پی ایل۔ جیون ریڈی نے بتایا کہ اراضی مالک سید صفدر علی نے رواں سال زمین کے ویلیوایشن سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی تھی۔ اس دوران انہیں معلوم ہوا کہ ان کے نام پر موجود زمین دوسرے افراد کے نام پر رجسٹرڈ کردی گئی ہے، جس کے بعد انہوں نے پولیس سے شکایت کی۔
Advertising

شکایت کی بنیاد پر مہیش کمار کھیتان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ محمد ابراہیم اکبانی عرف ماملا سیٹھ اور سورج سیٹھ نے درمیانی افراد کے طور پر کام کرتے ہوئے جعلی دستاویزات تیار کرکے مذکورہ زمین پر غیر قانونی حقوق قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔
Advertising

ڈی ایس پی نے بتایا کہ جعلی دستاویزات کی تیاری میں تعاون کرنے والے دیگر ڈاکیومنٹ رائٹرس اور رجسٹریشن کے عمل سے وابستہ افراد کے کردار کی بھی جامع تحقیقات کی جارہی ہیں۔ انہوں نے ڈاکیومنٹ رائٹرس اور رجسٹریشن دفتر کے عملہ کو ہدایت دی کہ رجسٹریشن سے قبل متعلقہ دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔
Advertising

انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ زمین یا پلاٹ خریدنے سے قبل ملکیتی حقوق، وراثتی دستاویزات، رجسٹریشن کی تفصیلات اور متعلقہ ریکارڈ کی مکمل جانچ کے بعد ہی خریداری کریں۔
ڈی ایس پی ایل۔ جیون ریڈی نے واضح کیا کہ لینڈ گرابرس خواہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں اور جعلی دستاویزات کتنے ہی سال قبل کیوں نہ تیار کیے گئے ہوں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جعلی دستاویزات کے ذریعے زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اوٹل گنپتی کو وراثتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے محکمہ مال کے ملازمین کے کردار کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
ڈی ایس پی نے عادل آباد شہر اور ضلع میں بڑے ریئل اسٹیٹ کاروباری افراد کے مبینہ دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے متاثرین سے اپیل کی کہ وہ خوفزدہ نہ ہوں اور ضلع پولیس سے رجوع کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پولیس متاثرین کے ساتھ کھڑی رہے گی، ان کے مسائل کے حل کے لیے ضروری تعاون فراہم کرے گی اور قانون کے مطابق انصاف دلانے کے لیے اقدامات کرے گی۔

