رمس واقعہ: متاثرہ تمام بچوں کو بہتر طبی علاج کی فراہمی پانچ بچوں کی موت پر حکومت کی جانب سے فی خاندان 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا 12 بچے ڈسچارج، 8 حیدرآباد اور 2 رمس میں زیر علاج نومولود بچوں کی نگہداشت کے لیے 34 بستروں پر مشتمل MNICU قائم کیا جائے گا ۔ ضلع کلکٹر

رمس واقعہ: متاثرہ تمام بچوں کو بہتر طبی علاج کی فراہمی

پانچ بچوں کی موت پر حکومت کی جانب سے فی خاندان 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا

12 بچے ڈسچارج، 8 حیدرآباد اور 2 رمس میں زیر علاج

نومولود بچوں کی نگہداشت کے لیے 34 بستروں پر مشتمل MNICU قائم کیا جائے گا ۔ ضلع کلکٹر

عادل آباد، 25 ستمبر(تلنگانہ وائس) رمس اسپتال کے خصوصی نومولود بچوں کی نگہداشت کے شعبہ (SNCU) میں پیش آئے واقعہ کے متاثرہ تمام بچوں کو بہتر طبی علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے ان کی صحت کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ بات ضلع کلکٹر راجَرشی شاہ نے جمعہ کو جاری اپنے ایک بیان میں کہی۔

 

کلکٹر نے کہا کہ حکومت اور ضلع انتظامیہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے اور ضروری طبی سہولیات و امدادی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

Advertising

انہوں نے بتایا کہ رمس کے SNCU میں پیش آئے واقعہ میں بدقسمتی سے پانچ نومولود بچوں کی موت ہوئی ہے۔ حکومت نے متوفی بچوں کے خاندانوں کو فی خاندان 5 لاکھ روپے ایکس گریشیا دینے کا اعلان کیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے ضلع انتظامیہ کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Advertising

کلکٹر نے بتایا کہ علاج کے بعد صحت بہتر ہونے پر 12 بچوں کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ ان بچوں کی صحت کی مسلسل نگرانی ڈاکٹروں، آشا ورکرس اور اے این ایمز کے تال میل سے کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق فالو اَپ طبی خدمات فراہم کی جائیں گی۔

Advertising

ڈسچارج ہونے والے 12 بچوں میں 7 بچے مہاراشٹرا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی تفصیلات ناندیڑ ضلع کے محکمہ صحت کے حکام کو فراہم کر دی گئی ہیں اور متعلقہ حکام کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ باقی 5 بچے عادل آباد ضلع سے تعلق رکھتے ہیں، جن کے لیے مقامی طبی حکام اور طبی عملہ باقاعدگی سے صحت کی جانچ اور ضروری طبی مشورے فراہم کر رہا ہے۔

 

کلکٹر راجَرشی شاہ نے بتایا کہ اس وقت 8 بچے حیدرآباد کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں انہیں ضروری علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ مزید 2 بچے رمس عادل آباد میں زیر علاج ہیں، جن کی صحت کی صورتحال پر متعلقہ طبی ٹیمیں مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

نومولود بچوں کے لیے 34 بستروں کی سہولت

کلکٹر نے بتایا کہ رمس اسپتال میں نومولود بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 34 بستروں کی گنجائش پر مشتمل MNICU قائم کیا گیا ہے۔ اس یونٹ کو نومولود بچوں کو درکار خصوصی طبی نگہداشت فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔

 

MNICU میں آکسیجن کی سہولت کے ساتھ 11 بستر اور آکسیجن کی سہولت کے بغیر 7 بستر دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیپ ڈاؤن یونٹ میں آکسیجن کی سہولت کے ساتھ 12 بستر قائم کیے گئے ہیں۔

 

کلکٹر نے بتایا کہ فی الحال رمس میں نومولود بچوں کی نگہداشت کے لیے مجموعی طور پر 30 بستروں کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ جلد ہی مزید 4 بستروں کو دستیاب کرتے ہوئے مجموعی گنجائش کو 34 بستروں تک بڑھایا جائے گا۔

 

ضلع کلکٹر راجَرشی شاہ نے واضح کیا کہ حکومت اور ضلع انتظامیہ متاثرہ بچوں کے خاندانوں کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔ نومولود بچوں کو بہتر اور مفت طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Advertising

انہوں نے متعلقہ محکموں کے حکام کو ہدایت دی کہ بچوں کی صحت کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے طبی خدمات میں کسی بھی قسم کی دشواری پیش نہ آئے، اس کے لیے باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو ضروری مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نومولود بچوں کی نگہداشت کی خدمات کو مزید مستحکم بنانے کے اقدامات بھی جاری رہیں گے۔