عادل آباد کی سیاست کا نیا موڑ: مسلم ووٹ اور 2028 کی جنگ
فیصلہ کن قوت یا منتشر ووٹ؟ عادل آباد کے مسلمانوں کے سامنے 2028 کا چیلنج
سیاسی تجزیہ
صحافی خضر احمد یافعی
ایڈیٹر ان چیف تلنگانہ وائس
تلنگانہ اسمبلی انتخابات 2028 اگرچہ ابھی دو سال سے زائد دور ہیں، لیکن ریاست کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ابھی سے اپنی سیاسی بساط بچھانا شروع کردی ہے۔ ریاست میں برسراقتدار کانگریس اپنی حکومت برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے، بی آر ایس دوبارہ اقتدار کے حصول کے خواب دیکھ رہی ہے، جبکہ بی جے پی پہلی مرتبہ تلنگانہ میں اقتدار تک پہنچنے کے لیے اپنی تمام تر سیاسی قوت جھونکنے کی تیاری کررہی ہے۔
عادل آباد اسمبلی حلقہ بھی ان اہم نشستوں میں شامل ہے جہاں آئندہ دنوں میں سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی متوقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے ابھی سے اپنے اپنے سیاسی مورچے سنبھالنا شروع کردیئے ہیں اور عوامی رابطہ مہمات میں سرگرمی دکھائی دے رہی ہے۔
کانگریس کے نوجوان قائد کندی سرینواس ریڈی آئندہ انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کررہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں انہیں ایک متحرک، سرگرم اور مالی طور پر مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بعض مواقع پر انہوں نے سینئر اور تجربہ کار قائدین کے مشوروں کو نظر انداز کیا، جبکہ مسلم برادری، مذہبی قائدین اور اردو صحافت سے مطلوبہ رابطے کی کمی بھی ان کی انتخابی ناکامی کی وجوہات میں شمار کی جاتی رہی ہے۔
دوسری جانب موجودہ رکن اسمبلی پائل شنکر اپنی دوسری میعاد کے لیے تیاری کررہے ہیں۔ ان کے متعلق وقتاً فوقتاً کانگریس میں شمولیت کی قیاس آرائیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اگر مستقبل میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی رونما ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف عادل آباد بلکہ پورے ضلع کی سیاست پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
سابق وزیر جوگو رامنا بھی اس مرتبہ بھرپور تیاری کے ساتھ سیاسی میدان میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں انتہائی کم ووٹوں کے فرق سے شکست کھانے والے جوگو رامنا کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ان کی ناکامی کی بڑی وجوہات میں کمزور انتخابی حکمت عملی، بعض غیر مؤثر مقامی قائدین پر انحصار اور اقلیتی ووٹوں کا تقسیم ہونا شامل تھا۔ اگرچہ انہیں عمومی طور پر مسلم دوست سیاستداں تصور کیا جاتا ہے، تاہم ان کے دورِ اقتدار میں اقلیتی ترقی، اردو زبان اور اردو صحافت سے متعلق بعض حلقوں کی ناراضگی بھی سیاسی مباحث کا حصہ رہی ہے۔
عادل آباد کی سیاست کا ایک ناقابلِ انکار پہلو یہ ہے کہ یہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ ماضی کے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹوں کی سمت اور تقسیم نے متعدد مواقع پر نتائج کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت انتخابات کے قریب آتے ہی مسلم ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر سیکولر ووٹ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہوتے رہے تو اس کا براہِ راست فائدہ بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے، جو تلنگانہ میں اپنی سیاسی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل کوشش کررہی ہے۔ ایسے میں مسلم ووٹروں کے درمیان سیاسی شعور، اتحاد اور دور اندیشی پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
ایس آئی آر (Special Intensive Revision) اور ووٹوں کا تحفظ
اس مرتبہ ایک اہم مسئلہ ایس آئی آر (Special Intensive Revision) بھی ہے۔ مسلم قائدین، مذہبی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور باشعور شہریوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ووٹروں میں بیداری پیدا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی اہل ووٹر کا نام ووٹر لسٹ سے خارج نہ ہو۔
سیاسی نمائندگی کا پہلا زینہ ووٹ کا حق ہے۔ اگر ووٹ ہی فہرست سے خارج ہوجائے تو سیاسی طاقت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہر خاندان اپنے ووٹ کی تصدیق کرے، نئے ووٹروں کا اندراج کروائے اور کسی بھی قسم کی تکنیکی یا انتظامی خامیوں کو بروقت دور کرنے کی کوشش کرے۔
مسلمانوں کو ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر انتخاب میں مسلمانوں کے درمیان سیاسی گفتگو، بحث و مباحثہ اور امیدواروں پر کھلی تنقید سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس دیگر سیاسی و نظریاتی حلقے خاموشی کے ساتھ اپنی حکمت عملی پر عمل کرتے ہیں، زمینی سطح پر کام کرتے ہیں اور ووٹروں تک مؤثر انداز میں پہنچتے ہیں۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض مواقع پر مسلم مذہبی یا سماجی تنظیمیں سیاسی مداخلت، مالی مفادات یا مختلف الزامات کی وجہ سے تنازعات کا شکار ہوجاتی ہیں۔ تاہم اصل مسئلہ افراد نہیں بلکہ اجتماعی سیاسی حکمت عملی کا ہے۔
2028 کے انتخابات کو محض جذبات، نعروں یا وقتی وعدوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، اقلیتی فلاح، اردو زبان، بنیادی سہولتوں، سیاسی نمائندگی اور ترقیاتی ایجنڈے کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔ مسلمانوں کو ماضی کے تجربات، غلطیوں اور ناکام حکمت عملیوں سے سبق سیکھتے ہوئے علم، حلم، بصیرت، اتحاد، سیاسی شعور اور اجتماعی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔
اصل سوال کیا ہے؟
اصل سوال یہ نہیں کہ کانگریس، بی آر ایس یا بی جے پی میں سے کون کامیاب ہوگی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ عادل آباد کے ووٹر، خصوصاً مسلمان، اپنی سیاسی طاقت کو کس انداز میں استعمال کرتے ہیں۔
اگر اقلیتی ووٹ متحد، منظم اور اپنے مسائل کے حل کے لیے واضح مطالبات کے ساتھ میدان میں آتے ہیں تو وہ نہ صرف انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں بلکہ آئندہ پانچ برسوں کی ترقیاتی سمت بھی متعین کرسکتے ہیں۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ عادل آباد کی سیاست شخصیات کے گرد گھومنے کے بجائے عوامی مفادات، ترقیاتی ایجنڈے، سیاسی جوابدہی اور جمہوری شعور کے محور پر استوار ہو، کیونکہ مضبوط جمہوریت کا راستہ باشعور اور ذمہ دار ووٹر ہی ہموار کرتا ہے۔
نوٹ
اظہارِ خیال کی آزادی ہر شخص کا حق ہے۔ آپ کو اس سے اختلاف کرنے کا بھی پورا حق حاصل ہے، لیکن تنقید ہمیشہ اخلاقی حدود اور شائستگی کے دائرے میں رہ کر کرنی چاہیے۔

