عادل آباد انڈسٹریل پارک کے نام پر ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضے کی سازش؟ بی جے پی رکن اسمبلی پائل شنکر پر سنگین الزامات، سیاسی ہلچل تیز
تلگو اخبارات کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن جماعتوں اور مقامی بی آر ایس قائدین کے الزامات
- سرکاری مؤقف اور رکن اسمبلی کا ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا
عادل آباد، 2/ جولائی (تلنگانہ وائس)
عادل آباد میں مجوزہ انڈسٹریل پارک کے قیام کو لے کر ایک نیا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ تلگو اخبارات میں شائع رپورٹس کے مطابق مقامی بی آر ایس قائدین اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی کے عادل آباد رکن اسمبلی پائل شنکر پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انڈسٹریل پارک کے نام پر ہزاروں ایکڑ اراضی کے حصول میں بے ضابطگیوں، بنامی لین دین، رہن شدہ اراضی اور سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق الزام ہے کہ رکن اسمبلی کے قریبی رشتہ داروں، بنامی افراد اور حامیوں کے نام پر بڑی مقدار میں اراضی رجسٹر کرائی گئی، جن میں بعض ایسی زمینیں بھی شامل ہیں جو بینکوں کے پاس رہن تھیں یا جن پر قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ بعد میں انہی اراضی کو مجوزہ انڈسٹریل پارک میں شامل کروا کر بھاری معاوضہ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔

تلگو میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے پہلے مرحلے میں تقریباً 2,026 ایکڑ اراضی کے حصول کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 1,022 ایکڑ کے لیے کارروائی شروع کی گئی ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ مستقبل میں مزید تین ہزار ایکڑ اراضی حاصل کرنے کی تیاری جاری ہے، جن میں تقریباً 1,200 ایکڑ اراضی رکن اسمبلی کے رشتہ داروں اور مبینہ بنامی افراد سے متعلق بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ڈیکن سیمنٹس کے ذریعے بعض زمینوں کی منتقلی عمل میں لائی گئی، جبکہ ای نیلامی میں اراضی حاصل کرنے والی ایک بنگلورو کمپنی کو نظر انداز کیے جانے کا بھی الزام سامنے آیا ہے۔

اپوزیشن قائدین کے مطابق وزیراعلیٰ کے چناکا-کوراٹا بیراج کے دورے کے دوران مجوزہ انڈسٹریل پارک کے لیے فضائی سروے کیا گیا، جس کے بعد منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔ مخالفین نے اس پورے معاملے کو کانگریس اور بی جے پی کے درمیان مبینہ سیاسی مفاہمت اور "میچ فکسنگ” سے تعبیر کیا ہے۔

قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ اگر رہن شدہ یا عدالتی تنازعات والی اراضی کو سرکاری منصوبے میں شامل کیا گیا تو مستقبل میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے عوامی خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہے گا۔

اہم وضاحت:
یہ تمام الزامات تلگو اخبارات میں شائع رپورٹس اور مقامی بی آر ایس قائدین و اپوزیشن جماعتوں کے بیانات پر مبنی ہیں۔اس خبر کو شائع کرنے تک (١٢: ١٨ منٹ ) ان دعوؤں کی آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملے پر حکومت، متعلقہ محکموں یا بی جے پی رکن اسمبلی پائل شنکر کی جانب سے باضابطہ وضاحت یا ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔ لہٰذا ان الزامات کی حقیقت کا تعین متعلقہ حکام کی تحقیقات اور فریقین کے مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

