عادل آباد خانہ پور تالاب ۔ ترقی کے نام پر سنگِ بنیاد، مگر عملی کام تاحال سوالیہ نشان — عوامی مشکلات میں اضافہ

عادل آباد خانہ پور تالاب ۔ ترقی کے نام پر سنگِ بنیاد، مگر عملی کام تاحال سوالیہ نشان — عوامی مشکلات میں اضاف

عادل آباد۔2/جولائی (تلنگانہ وائس)

عادل آباد میونسپل کی حدود میں واقع تاریخی خانہ پور تالاب ایک صدی سے زائد پرانا آبی ذخیرہ ہے، جو تقریباً 114 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ نظام دور میں اسے زرعی آبپاشی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تعمیر کیا گیا تھا، اور وقت کے ساتھ یہ نہ صرف شہر کی آبی ضروریات بلکہ ماحولیاتی توازن کا بھی اہم حصہ رہا ہے۔

یہ تالاب شہر کے وارڈ نمبر 3، 26، 27، 28، 29 اور 30 کی حدود میں آتا ہے، جہاں کی بڑی آبادی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس آبی ذخیرے سے جڑی ہوئی ہے۔ خاص طور پر بارش کے موسم میں انہی علاقوں کا سیلابی اور نکاسی آب کا پانی تالاب میں شامل ہو کر اس کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔

حالیہ عرصے میں حکومت کی جانب سے خانہ پور تالاب کی ترقی اور تزئین و آرائش کے لئے 3.14 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جسے شہری ترقی کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ اس منصوبے کا باقاعدہ سنگِ بنیاد 20 اپریل 2026 کو عوامی نمائندوں اور متعلقہ حکام کی موجودگی میں رکھا گیا، جس پر عوام میں امید پیدا ہوئی کہ اب تالاب کی حالت بہتر ہوگی۔

تاہم سنگِ بنیاد کو دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود زمینی سطح پر ترقیاتی کام شروع نہ ہونے پر عوام میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ برسات کا موسم شروع ہو چکا ہے، اور معمولی بارش میں بھی اطراف کے مکانات میں سیلابی پانی داخل ہو جاتا ہے، جس سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب تالاب میں گندہ پانی، جنگلی جھاڑیاں اور کچرے کی بڑھتی ہوئی مقدار نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس سے نہ صرف بدبو اور آلودگی پھیل رہی ہے بلکہ بیماریوں کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

مقامی عوام اور سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ منظور شدہ فنڈز کے مطابق فوری طور پر ترقیاتی کام شروع کئے جائیں تاکہ برسوں سے جاری اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ آخر کب تک صرف سنگِ بنیاد کی تختیوں تک ہی ترقی محدود رہے گی اور حقیقی کام زمین پر کب نظر آئے گا؟