عادل آباد میں غذائی تحفظ سوالیہ نشان، فوڈ سیفٹی افسران کی کمی سے عوام کی صحت خطرے میں
ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں معائنوں کا فقدان، ممنوعہ رنگوں اور خراب گوشت کے استعمال پر تشویش
عادل آباد، 2/ جولائی (تلنگانہ وائس)
برسات کے آغاز کے ساتھ ہی عادل آباد ضلع میں غذائی تحفظ پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ٹھنڈا اور مرطوب موسم بیکٹیریا کی افزائش کے لیے سازگار ہونے کے باعث مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، مگر ضلع میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، میسوں اور دیگر غذائی مراکز کی نگرانی کے لیے ایک بھی مستقل فوڈ سیفٹی افسر موجود نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ برس ضلع بھر میں فوڈ سیفٹی محکمہ کی جانب سے ایک بھی باضابطہ معائنہ نہیں کیا گیا، جبکہ رواں سال اب تک صرف دو معائنے انجام دیے گئے ہیں۔ اس صورتحال پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بعض ہوٹلوں اور کھانے پینے کے مراکز میں کھانوں میں ممنوعہ اور سرطان کا سبب بننے والے مصنوعی رنگ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ماضی میں محکمہ کی کارروائیوں کے دوران فریزر میں رکھا ہوا خراب اور پھپھوندی لگا گوشت بھی ضبط کیا گیا تھا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر خراب گوشت کو کیمیکل سے صاف کرکے دوبارہ پکایا اور صارفین کو پیش کیا جا رہا ہے،اور اکثر ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس میں صاف صفائی کا مناسب انتظام بھی نہیں ہے۔ جس سے عوام کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
عادل آباد میں خدمات انجام دینے والے اسسٹنٹ فوڈ کنٹرول آفیسر کی حالیہ تبادلے کے بعد تاحال کسی نئے افسر کی تقرری نہیں کی گئی۔ فی الحال نظام آباد کی فوڈ سیفٹی افسر محترمہ سنیتا کو نظام آباد اور نرمل کے ساتھ عادل آباد ضلع کی اضافی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں، جس کے باعث تین اضلاع میں مؤثر نگرانی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دوسری جانب میونسپلٹی کے سینیٹری شعبے کی کارکردگی پر بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ قواعد کے مطابق سینیٹری انسپکٹروں کو ہوٹلوں، مٹھائی کی دکانوں اور دیگر غذائی مراکز کا باقاعدہ معائنہ کرنا چاہیے، تاہم حالیہ عرصے میں ایسی کارروائیوں کا کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔

عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع میں مستقل فوڈ سیفٹی افسر کا فوری تقرر کیا جائے، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کی باقاعدہ جانچ کی جائے اور غیر معیاری یا مضر صحت غذائی اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کی صحت کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

