کسانوں کو دھمکا کر رقم وصول کرنے والا فارسٹ بیٹ آفیسر گرفتار
ڈیڑھ لاکھ روپے کا مطالبہ، 50 ہزار روپے وصول کرنے کا الزام؛ ملزم عدالتی ریمانڈ پر روانہ
عادل آباد، یکم جولائی (تلنگانہ وائس) ضلع عادل آباد کے تلا مڈگو منڈل میں کسانوں کو دھمکا کر غیر قانونی طور پر رقم وصول کرنے کے الزام میں فارسٹ بیٹ آفیسر کرشنا نائک کو پولیس نے گرفتار کر کے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا۔ اس بات کی اطلاع تلا مڈگو پولیس اسٹیشن کی ایس آئی ڈی رادھیکا نے صحافیوں کو دی۔
انہوں نے بتایا کہ کججرلہ گاؤں کے کسانوں چنتلا پلی جے بھارت ریڈی، تانڈرا مہیش، تانڈرا نرسمہلو اور یلما رغھوورن ریڈی کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات کی گئیں، جس کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق کججرلہ اور دیواپور دیہات کے درمیان سڑک کے کنارے محکمہ جنگلات کی جانب سے لگائے گئے شجرکاری منصوبے کے قریب کسان اپنے کھیتوں میں فصل کی باقیات جلا رہے تھے، اس دوران اتفاقی طور پر آگ پھیل گئی اور چند پودوں کو نقصان پہنچا۔

الزام ہے کہ فارسٹ بیٹ آفیسر کرشنا نائک نے اس واقعہ کو جواز بنا کر کسانوں کو فوجداری مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی اور نقصانات کے ازالے کے نام پر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ شکایت کے مطابق دھمکیوں سے خوفزدہ ہو کر جے بھارت ریڈی نے 25 ہزار روپے، رگھوورن ریڈی نے 10 ہزار روپے جبکہ تانڈرا مہیش اور تانڈرا نرسمہلو نے ساڑھے سات، ساڑھے سات ہزار روپے ادا کیے، اس طرح مجموعی طور پر 50 ہزار روپے ملزم کو دیے گئے۔

ایس آئی ڈی رادھیکا نے بتایا کہ شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے تفتیش مکمل کی گئی، جس میں الزامات کی ابتدائی تصدیق ہونے پر فارسٹ بیٹ آفیسر کرشنا نائک کو گرفتار کر کے عدالتی ریمانڈ پر روانہ کر دیا گیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو دھمکا کر غیر قانونی وصولی کرنے والے کسی بھی ملازم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

