وارڈ 35 کے مسائل پر عتیق الرحمن کا سخت حملہ، بلدیہ افسران پر سیاسی غلامی کا الزام
عادل آباد۔18/جون (تلنگانہ وائس)عادل آباد کے وارڈ نمبر 35 کے اقلیتی قائد اور سابق آزاد امیدوار عتیق الرحمن نے مجلس بلدیہ عادل آباد کے کمشنر اور متعلقہ افسران پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بلدیہ انتظامیہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے بعض کونسلروں اور سیاسی قائدین کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کا فرض عوامی خدمت ہے، نہ کہ منتخب نمائندوں کی غلامی کرنا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عتیق الرحمن نے کہا ہ وارڈ 35 شانتی نگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ نالیوں کی صفائی کا کوئی مناسب انتظام نہیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر عوام کے لیے وبالِ جان بنے ہوئے ہیں جبکہ پینے کے پانی کا شدید بحران برقرار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ بلدیہ حکام سے رابطہ کرنے کے باوجود نہ تو پانی کی سپلائی بہتر بنائی گئی اور نہ ہی پانی کے ٹینکر روانہ کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بلدیہ کے بعض افسران عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی معاملات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ عتیق الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر وارڈ کے مسائل فوری طور پر حل نہیں کیے گئے تو وہ ضلع کلکٹر سے باضابطہ شکایت کریں گے۔

اس موقع پر وارڈ 35 کے متعدد مکینوں نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا تھا کہ نکاسیٔ آب، صفائی اور پانی جیسے بنیادی مسائل طویل عرصے سے جوں کے توں ہیں، جبکہ متعلقہ حکام دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن زمینی حقیقت مختلف ہے۔

دوسری جانب بلدیہ کمشنر کا موقف ہے کہ وارڈ کے بیشتر مسائل حل کر دیے گئے ہیں، تاہم مقامی عوام اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسائل کا انبار آج بھی موجود ہے۔ عتیق الرحمن نے بلدیہ چیئرپرسن اور کمشنر کو مشورہ دیا کہ وہ وارڈ 35 کا براہِ راست دورہ کرکے زمینی حقائق کا جائزہ لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجلس بلدیہ انتخابات میں عادل آباد کے بیشتر کونسلر 35 تا 40 فیصد ووٹ حاصل کرکے منتخب ہوئے ہیں جبکہ باقی ووٹرز نے دیگر امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وارڈ 35 میں انہیں محض 20 ووٹوں کے معمولی فرق سے شکست ہوئی تھی، اس لیے بلدیہ حکام کو سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر امتیازی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
اشتہار

عتیق الرحمن نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ "بلدیہ افسران صرف چیئرپرسن اور کونسلروں کے نہیں بلکہ پورے عادل آباد کے عوام کے خادم ہیں۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر کے 49 وارڈوں میں سے بیشتر وارڈ آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور کئی منتخب کونسلر عوامی مسائل کے حل میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اشتہار

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہر کے تمام وارڈوں کو یکساں اہمیت دی جائے اور عوامی مسائل کے حل کو سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولتیں بروقت فراہم ہوسکیں۔
#adilabad
#Telangana

