زمین تنازعات سے پاک تلنگانہ کی تعمیر حکومت کا ہدف ۔وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی

زمین تنازعات سے پاک تلنگانہ کی تعمیر حکومت کا ہدف ۔وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی

حیدرآباد۔20/جون(تلنگانہ وائس)ریاستی وزیر مالیات و ریونیو پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ریاستی حکومت نے زمینی مسائل اور اراضی تنازعات سے پاک تلنگانہ کی تعمیر کے مقصد سے ریاست گیر اراضی از سرِ نو سروے (ری سروے) پروگرام شروع کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ ماہ سے ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر اراضی کی حد بندی اور سروے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

جمعہ کو ریونیو عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ ٹیلی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر  موصوف نے کہا کہ پہلے مرحلے میں حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے 32 اضلاع کی 10,954 ریونیو دیہاتوں میں سے 2,240 دیہاتوں کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں اراضی سروے اور حد بندی کا کام انجام دیا جائے گا۔ انہوں نے حکام کو تمام انتظامات جنگی پیمانے پر مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ زمین کسان کے لیے صرف ایک اثاثہ نہیں بلکہ اس کی زندگی اور روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ہر انچ زمین کی واضح حد بندی، ہر سروے نمبر کو ’’بھودر‘‘ نمبر اور ہر کسان کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کا بنیادی مقصد ہے تاکہ تلنگانہ کو زمینی تنازعات سے پاک ریاست بنایا جا سکے۔

وزیر نے بتایا کہ ریاست کے کئی علاقوں میں آج بھی 1936 کے نظام دور کے سروے ریکارڈ بنیادی دستاویزات کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ زمینوں کی تقسیم، سب نمبرات میں اضافہ، شہری توسیع اور انتظامی حدود میں تبدیلی کے باعث زمینوں کی حقیقی حدود کے تعین میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ انہی مسائل کے مستقل حل کے لیے حکومت جامع ری سروے پروگرام نافذ کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں ایسے 378 دیہاتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں نظام دور سے نقشے دستیاب نہیں تھے۔ ان میں سے 5 دیہاتوں میں ری سروے مکمل کرکے بھودر نمبرات جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 373 دیہاتوں میں جدید ٹیکنالوجی اور روور آلات کی مدد سے سروے کا عمل جاری ہے۔

وزیر نے کہا کہ اب روایتی آلات جیسے چین، اسٹک، کراس اسٹاف اور ماپنے والی ٹیپ کے بجائے جدید سائنسی ٹیکنالوجی جیسے DGPS، Rovers، GIS اور QGIS کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب تک 411 روور آلات خریدے جا چکے ہیں جبکہ مزید 400 روور جلد حاصل کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ری سروے مکمل ہونے کے بعد ہر سروے نمبر کو ایک منفرد ’’بھودر‘‘ نمبر دیا جائے گا اور زمین کے لیے آدھار کارڈ کی طرز پر خصوصی ’’بھودر کارڈ‘‘ جاری کیا جائے گا۔ DGPS کے ذریعے حاصل کردہ تمام معلومات کو QGIS سافٹ ویئر اور ’’بھو بھارتی‘‘ پورٹل میں محفوظ کیا جائے گا۔

وزیر کے مطابق 1948 تک تلنگانہ خطے میں تقریباً 40 لاکھ سروے نمبرات موجود تھے جو اب بڑھ کر 2 کروڑ 29 لاکھ ہو چکے ہیں۔ حکومت مرحلہ وار ریاست کے تمام سروے نمبرات کو بھودر نمبرات مختص کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے مؤثر نفاذ کے لیے 5,520 لائسنس یافتہ سرویئرز کو تربیت دے کر لائسنس جاری کیے گئے ہیں جبکہ ہر منڈل میں زمین کے رقبے کے لحاظ سے 4 سے 6 سرویئرز تعینات کیے گئے ہیں۔ ریاست کی ریونیو بستیوں کو مختلف کلسٹروں میں تقسیم کرکے خصوصی نگرانی کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔

پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ ری سروے کے بعد ہر زمین کے پلاٹ کی درست حدود اور علیحدہ نقشے تیار کیے جائیں گے، جس سے ملکیتی تنازعات کا خاتمہ ہوگا۔ بھو بھارتی قانون کے تحت زرعی اراضی کی رجسٹریشن کے لیے سروے چارٹ لازمی قرار دیے جانے کے بعد زمینوں کی رجسٹریشن اور میوٹیشن کا عمل مزید شفاف، آسان اور تیز رفتار ہو جائے گا۔