تحریر شمس تبریز قاسمی
ایڈیٹر ملت ٹائمز
عادل آباد۔ 7/جون (تلنگانہ وائس)
بہت سارے مسلمانوں کی طرف سے لگاتار سوشل میڈیا پر یہ لکھا جا رہا ہے کہ کوکروچ جنتا پارٹی اور جین زی پروٹیسٹ کے پیچھے آر ایس ایس اور بی جے پی کا ہاتھ ہے، جس طرح انا ہزارے اور جے پرکاش نارائن کی تحریکوں کے پیچھے آر ایس ایس کا ہاتھ تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس تحریک کا مقصد اپوزیشن اتحاد کو کمزور کرنا اور کانگریس کو نقصان پہنچانا ہے، اس لیے مسلمانوں کو اس سے دور رہنا چاہیے۔
کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ جے پرکاش نارائن کی تحریک اگر اندرا گاندھی کے خلاف کامیاب ہوئی تو اس میں مسلمانوں کا کتنا کنٹریبیوشن تھا؟ انا ہزارے کا آندولن 2011-12 میں کامیاب ہوا اور کانگریس کی وہاں سے الٹی گنتی شروع ہوئی، تو کیا اس میں مسلمانوں کا کوئی کنٹریبیوشن تھا؟ کیا مسلمانوں نے اس تحریک کو سپورٹ کیا تھا؟

موجودہ جین زی تحریک میں بھی مسلمان نہ تو کہیں دور دور تک نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی اس کی قیادت میں شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر کوئی مسلمان کسی ویڈیو کو لائک کر دے یا کسی پوسٹ پر کمنٹ کر دے تو وہ الگ بات ہے، لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مسلمانوں کا نہ کل کسی ایسی تحریک میں کوئی بڑا رول تھا اور نہ آج اس تحریک میں کوئی رول ہے۔
ایک اور بات، پچھلے بارہ سالوں سے اپوزیشن کا الائنس ایک بھی بڑے ایجنڈے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ کسی ایک بڑے لیڈر کا استعفیٰ تک بی جے پی سے نہیں لے سکا، بڑی کامیابیوں کی بات تو چھوڑ ہی دیجیے۔ اس کے باوجود مسلمانوں کی ہمدردی صرف کانگریس کے ساتھ ہے، صرف اس لیے کہ وہ اپوزیشن میں ہے اور وہی اپوزیشن میں رہے، کوئی اور اپوزیشن میں نہ آ سکے۔
آزادی کے بعد عملی سیاست اور کسی قومی تحریک میں مسلمانوں کا کردار تقریباً ختم ہو چکا ہے اور مسلمانوں میں اب اتنا حوصلہ بھی نہیں بچا ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ مسلمان اپنے ملی اور مذہبی حقوق کی جنگ بھی پوری قوت کے ساتھ لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ شاہین باغ تحریک نے ایک نیا حوصلہ اور امید پیدا کی تھی، لیکن گرفتاریوں، مقدمات اور سرکاری کارروائیوں کے بعد مسلمان دوبارہ پیچھے ہٹ گئے۔
آخر کیوں؟ کب تک مسلمان صرف تماشائی بنے رہیں گے اور دوسروں کی سیاست پر تبصرے کرتے رہیں گے؟ اپنے مسائل، اپنے حقوق اور اپنے مستقبل کے لیے عملی کردار ادا کرنے کا وقت کب آئے گا۔
روزانہ مسلمانوں کی ماب لنچنگ ہورہی ہے، مسجد اور مدرسے پر بلڈوزر چل رہے ہیں۔ مذہبی شعار پر حملے ہورہے ہیں اور ہماری قیادت خاموش ہے، مسلمان ایکٹویسٹ بےبس ہیں کوئی بولنے کی ہمت نہیں کررہا ہے لیکن کچھ دانشواران کو لگ رہاہے کہ مسلمانوں کو جین زی تحریک کے نام پر گمراہ کیا جارہاہے۔
آپ کو اپنی لڑائی خود لڑنی ہوگی کوئی پارٹی یا جماعت آپ کی لڑائی نہیں لڑنے والی ہے ہاں کبھی سرکار بدلنے سے وقتی طور پر راحت ممل سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں۔
خبروں کی دنیا میں ایک نیا اور معتبر نام — تلنگانہ وائس
سچ، اعتماد اور عوامی مسائل کی مؤثر ترجمانی
Telangana Voice – Delivering Truth, Empowering People

