*مستقبل کی ضروریات کے لیےپانی ذخیرہ کیاجائےریاستی وزراءاتم کمارریڈی،سریدھربابو،وویک وینکٹٹ سوامی کا نرمل کےکڑم پراجیکٹ کا معائنہ کرنےکےدوران عہدیداروں کو دی ہدایت*
تلنگانہ وائس نیوز
نرمل۔2/اگست(زاہد ہاشمی نرمل)مستقبل میں زرعی اغراض کےمقاصد اور پینے کے پانی کی ضروریات کو مدنظر رکھتےہوئے منصوبہ بندطریقے سےپراجیکٹس میں پانی کا ذخیرہ کرنےکےعہدیداران اقدامات کریں ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر آبپاشی وسول سپلائی اتم کمار ریڈی نے کیا وہ آج ریاستی وزیر وزیر آئی ٹی ڈی۔سریدھر بابو،ریاستی وزیر لیبر گڈم وویک وینکٹ سوامی، رکن اسمبلی خانہ پور ویڈما بوجو پٹیل وضلع کلکٹرنرمل بھاویش مشرا کے ہمراہ نرمل ضلع کےکڑم منڈل مستقر میں واقع کڑم نارائن ریڈی پراجیکٹ کا دورہ کرتے ہوئے معائنہ کرنےکےدوران کیا ۔

اس موقع پرمتعلقہ عہدیداروں نے پراجیکٹ میں قائم ایل ای ڈی اسکرین پر پاورپوائنٹ پریزنٹیشن کےذریعے وزراء کوپراجکٹ میں فل فلو لیول (ایف آر ایل) موجودہ پانی کی آمد و اخراج، گیٹوں کے زریعےاخراج کیا گیا پانی کی مقدار اور موجودہ صورتحال کی وضاحت کی اور مستقبل میں پینے کے پانی اور آبپاشی کے پانی کی ضروریات کے لیے ذخیرہ کرنے کےمتعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے مذکورہ وزراء نےکہاکہ ایل نینو کے اثرات اورمستقبل میں پانی کی ضروریات کومدنظر رکھتےہوئےپانی کے انتظام کے لیے سائنسی نقطہ نظر پر عمل کیاجائے۔

انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا کہ مستقبل میں عوام کو کسی بھی صورت میں پینے کے پانی کی پریشانی کا سامنا کرنا نہ پڑیں۔وزراء نے کہا کہ حکومت پراجیکٹس میں ذخیرہ آب کےمنصوبوں کے مطابق پانی کی سطح اور حالات کامسلسل جائزہ لے گی۔
Advertising

ضلع کلکٹر بھاویش مشرا نرمل نے اس موقع پر وزراء کوکڑم نارائن ریڈی پراجیکٹ کی موجودہ صورتحال، پانی کی سطح آب، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش،سطح آب میں خاطر خواہ اضافہ ہونے پردرپیش مسائل اور پانی کی نکاسی کے انتظامات کے متعلق تفصیلی وضاحت کی۔کلکٹر نے کہا کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظررکھتے ہوئےسائنسی طریقےسےپانی کےاستعمال کا انتظام کرکے آبپاشی کی ضروریات کو پوراکرنےکےلیےاقدامات کیےجارہے ہیں۔
Advertising

انہوں نے وضاحت کی کہ پراجیکٹ میں گاد، مٹی کا جمع ہوجانا ایک بڑامسئلہ بن گیاہےاور تقریباً 7.5 ٹی ایم سی کی گنجائش والے پراجیکٹ کے تقریباً 50 فیصد حصے میں مٹی جمع ہوگئی ہےجس کی وجہ سے ذخیرہ کرنےکی گنجائش میں کمی کے تناظر میں مسئلہ کےحل کے لیے طویل مدتی کارروائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی سطح 674-675 میٹر تک پہنچنےپرحالات کے مطابق متبادل دنوں میں پانی کے اخراج کا منصوبہ بنایا گیا ہے مٹی، گاد کے مسئلےکو مرحلہ وار کم کرنے اور پراجیکٹ کی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو بڑھانے کے لیے ضروری تکنیکی اقدامات کیےجا رہے ہیں۔
Advertising

اس موقع پررکن اسمبلی جگتیال ڈاکٹر سنجے کمار،ضلع ایس پی نرمل جانکی شرمیلا، ایڈیشنل کلکٹرس بی وینکٹیشورلو، کشور کمار، اے ایس پی سائی کرن، عوامی نمائندے، محکمہ آبپاشی کے افسران و دیگر موجود تھے۔
Advertising
اسکول،کالج،این جی اوز اور دینی مدارس کے لئے بہترین سافٹوئیر


