رائس ملرس پر حملوں کے خلاف کاماریڈی میں مہادھرنا سی ایم آر چاول کی حوالگی کے لیے 31 دسمبر تک مہلت دینے کا مطالبہ

رائس ملرس پر حملوں کے خلاف کاماریڈی میں مہادھرنا

سی ایم آر چاول کی حوالگی کے لیے 31 دسمبر تک مہلت دینے کا مطالبہ

تلنگانہ وائس نیوز

کاماریڈی10ستمبر(سیدکوثرعلی کی رپورٹ )رائس ملوں کی فزیکل ویریفکیشن کے نام پر جاری کارروائیوں اور ملرس کو ہراساں کرنے کے خلاف رائس ملرس اسوسی ایشن کی جانب سے کاماریڈی کلکٹریٹ کے روبرو مہادھرنا منظم کیا گیا۔اس موقع پر آل انڈیا رائس ملرس اسوسی ایشن کے سکریٹری موہن ریڈی نے مطالبہ کیا کہ فزیکل ویریفکیشن کے نام پر ملوں پر حملے فوری طور پر روکے جائیں اور حکومت کو سی ایم آر چاول حوالے کرنے کے لیے 31 دسمبر تک مہلت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ 1960 سے ریاست میں رائس ملنگ کی صنعت موجود ہے۔

2014 سے 2024 تک ملرس کو دیے گئے دھان میں سے تقریباً 98 فیصد چاول حکومت کو واپس حوالے کیے جاچکے ہیں، صرف معمولی مقدار باقی رہنے پر تمام ملرس کو ہراساں کرنا مناسب نہیں۔موہن ریڈی نے کہا کہ فی کوئنٹل 67 کلو چاول کی وصولی کے معاملے میں ملرس کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے حقیقت معلوم کرنے والی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

Advertising

انہوں نے کہا کہ اگر 67 کلو چاول حاصل ہونا ثابت ہوجائے تو ملرس اپنی غلطی تسلیم کرنے تیار ہیں۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ملرس کے مسائل پر اسمبلی اجلاس کے بعد سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں اور 31 دسمبر تک مہلت دے کر چاول کی حوالگی کا عمل مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

Advertising

مہادھرنے میں ضلع رائس ملرس اسوسی ایشن کے صدر راجندر پرساد، سکریٹری سنتوش، خازن موتیاپو سدرشن، سابق صدر کنچرلہ لنگم، سابق سکریٹری گوری شنکر کے علاوہ مختلف ڈویژنوں کے صدور، رائس ملرس، لاری ڈرائیورس، مل آپریٹرس، گمستے اور ہمّالی بڑی تعداد میں شریک تھے۔

Advertising