پیدل چلنے والوں کی جانیں خطرے میں، فٹ پاتھوں پر قبضوں سے حادثات میں اضافہ
غریب تاجرین بے دخل، مگر بڑے کاروباری اداروں کے خلاف کارروائی ندارد
بلدیہ کی جانب سے تعمیر کردہ فٹ پاتھ تجاوزات کی نذر، شہری گاڑیوں کے درمیان چلنے پر مجبور؛ کارروائی نہ ہونے پر عوامی برہمی
عادل آباد۔25/جون(تلنگانہ وائس) عادل آباد شہر میں فٹ پاتھوں پر بڑھتے ہوئے ناجائز قبضوں کے باعث پیدل چلنے والوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام کی سہولت اور حفاظت کے لیے تعمیر کیے گئے فٹ پاتھ اب کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ سڑکوں پر گاڑیوں کے درمیان چلنے پر مجبور ہیں اور آئے دن حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہ

حال ہی میں تعلقہ تلمڈگو کے دیواپور گاؤں سے تعلق رکھنے والے 70 سالہ بزرگ کو سڑک کنارے چلتے وقت ایک کار نے ٹکر مار دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو کر اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

شہر کے امبیڈکر چوراہے جانے والی سڑک کے کنارے بلدیہ کی جانب سے نالے پر تعمیر کردہ فٹ پاتھ پر دکانداروں نے قبضہ جما رکھا ہے اور وہاں کاروبار چلا رہے ہیں۔ نتیجتاً پیدل چلنے والوں کو سڑک پر اتر کر سفر کرنا پڑ رہا ہے، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں عادل آباد کے گاندھی چوک، امبیڈکر چوک، شیواجی چوک، دیوی چند چوک اور اطراف کے علاقوں میں فٹ پاتھوں پر برسوں سے روزگار کرنے والے 500 سے زائد غریب اور چھوٹے تاجرین کو بڑے پیمانے پر بے دخل کر دیا گیا تھا۔
تاہم، آج تک ان متاثرہ خاندانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکا ۔
دوسری جانب شہر کے بڑے شاپنگ مالز اور کاروباری ادارے، جو مجلسِ بلدیہ کی جانب سے تعمیر کردہ پیدل چلنے والوں کی جگہوں اور فٹ پاتھوں پر قبضہ کیے ہوئے ہیں، ان کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے کوئی قابلِ ذکر کارروائی نظر نہیں آتی۔ اس دوہرے معیار پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور متعلقہ حکام سے مساوی انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ضلع لائبریری کے قریب بھی ایک تاجر نے فٹ پاتھ پر لوہے کے ستونوں کے ذریعے مستقل ڈھانچہ تعمیر کر لیا ہے۔ شہریوں کا الزام ہے کہ بلدیہ کے عہدیدار روزانہ اس راستے سے گزرتے ہیں، مگر اس غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔

شہر کے مختلف علاقوں میں بعض افراد نے فٹ پاتھوں پر سیڑھیاں تعمیر کر لی ہیں، جبکہ کئی مقامات پر شیڈ نصب کرکے کاروبار کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ نے سڑکوں پر ڈیوائیڈرز تعمیر کرنے کے بعد پیدل چلنے والوں کی حفاظت کے لیے فٹ پاتھ بنائے تھے، لیکن اب یہی فٹ پاتھ تجاوزات کی نذر ہو چکے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے فٹ پاتھوں کے استعمال کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے مقامی اداروں کو ان کی تعمیر، دیکھ بھال اور پیدل چلنے والوں کے تحفظ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس کے باوجود عادل آباد بلدیہ کی جانب سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فٹ پاتھوں سے فوری طور پر قبضے ہٹائے جائیں تاکہ عوام محفوظ طریقے سے آمدورفت کر سکیں۔
جب انتظامیہ مختلف بہانوں کا سہارا لے کر غریب اور مستحق فٹ پاتھ تاجرین کو بے دخل کر سکتی ہے، جن کے ساتھ آج تک انصاف نہیں ہو سکا، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری جانب پیدل چلنے والوں کے لیے مختص فٹ پاتھوں اور راستوں پر قبضہ جمانے والے بڑے کاروباری اداروں اور شاپنگ مالز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
غریبوں پر قانون کا نفاذ اور طاقتوروں کے سامنے خاموشی، انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر فٹ پاتھوں سے تجاوزات ہٹانا ہی مقصد ہے تو یہ کارروائی بلا امتیاز ہونی چاہیے، تاکہ عوام کو یہ احساس ہو کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے۔

