شدید بارشوں سے عوام کو مشکلات نہ ہوں، پیشگی اقدامات کریں ۔ گورنمنٹ مشیرسدرشن ریڈی
کسان فصلوں کی کاشت میں توازن برقرار رکھیں، دھان کے بجائے متبادل فصلوں کو فروغ دینے پر زور

نرمل، 31/ جولائی (تلنگانہ وائس نیوز ڈیسک)
ریاستی حکومت کے مشیر سدرشن ریڈی نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں کے پیش نظر عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے متعلقہ محکمے پیشگی احتیاطی اقدامات کریں۔ انہوں نے کسانوں کو فصلوں کی کاشت میں توازن برقرار رکھنے اور پانی کی زیادہ ضرورت والی فصلوں کے بجائے متبادل فصلوں کی طرف توجہ دینے کا مشورہ دیا۔

سدرشن ریڈی نے جمعہ کی شام نرمل کلکٹریٹ کے کانفرنس ہال میں نرمل اور عادل آباد اضلاع کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں حالیہ شدید بارشوں، آبپاشی منصوبوں میں پانی کی صورتحال، فصلوں کی کاشت، ایل نینو کے ممکنہ اثرات اور دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے عہدیداروں سے اضلاع میں بارش کے باعث متاثرہ سڑکوں اور پلوں کے علاوہ مختلف پروجیکٹس میں پانی کے ذخائر اور ان فلو، آؤٹ فلو کی صورتحال سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔ سدرشن ریڈی نے ہدایت دی کہ بارشوں سے سڑکیں اور پل متاثر ہوئے ہوں تو فوری طور پر مرمتی کام شروع کیے جائیں تاکہ عوام کو آمدورفت میں دشواری نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی کی قلت پیدا نہ ہو، اس کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات کیے جائیں۔ پروجیکٹس میں آنے والے پانی کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق گیٹس کھول کر پانی خارج کرنے کی ہدایت بھی دی۔
Advertising
نوٹ ۔ ہر اتوار کو مفت تشخیص و علاج بھی کیا جاتا ہے۔

ایل نینو کے باعث آئندہ دنوں میں بارشوں میں کمی کا امکان ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے محکمۂ زراعت کے عہدیداروں کو کسانوں میں فصلوں کی تبدیلی کے طریقۂ کار سے متعلق وسیع پیمانے پر شعور بیدار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے زیادہ پانی کی ضرورت والی دھان کی فصل کے بجائے آئل پام، کَنْدی، تل اور کپاس جیسی متبادل فصلوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی فصلوں کی کاشت کے لیے ضروری بیجوں کی فراہمی میں حکومت مکمل تعاون کرے گی۔
Advertising

سدرشن ریڈی نے متعلقہ عہدیداروں کو سی ایم آر (کسٹم ملنگ رائس) کی ڈیلیوری کا عمل تیزی سے مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی۔
Advertising

نرمل ضلع کلکٹر بھاویش مشرا نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران ہوئی شدید بارشوں سے ضلع کے پروجیکٹس، تالاب اور کنٹے پانی سے بھر گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارش سے متاثرہ سڑکوں کی مرمت کے کام تیزی سے انجام دیے جا رہے ہیں اور عوام کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو، اس کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ایل نینو کے اثر سے بارش کی کمی کی صورتحال پیدا ہونے کے باوجود حالیہ بارشوں کے سبب ضلع میں پینے کے پانی کی قلت کا امکان نہیں ہے۔
Advertising

انہوں نے مزید بتایا کہ کسانوں میں فصلوں کی تبدیلی کے حوالے سے بڑے پیمانے پر شعور بیدار کیا جا رہا ہے اور ضلع میں آئل پام کی کاشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
Advertising
اسکول،کالج،این جی اوز اور دینی مدارس کے لئے بہترین سافٹوئیر

عادل آباد ضلع کلکٹر راجَرشی شاہ نے بتایا کہ ضلع میں پہلے بارش کی کمی 38 فیصد تھی جو اب گھٹ کر 6 فیصد رہ گئی ہے۔ ضلع کے 21 منڈلوں میں سے 17 منڈل معمول کی بارش کی صورتحال پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے اندراویلی، بھورج، سریکونڈہ، بوتھ، گڈی ہتنور اور ایچوڑہ منڈل بھی اب معمول کی صورتحال میں آ گئے ہیں۔
کلکٹر نے بتایا کہ رواں سال ضلع میں 5,93,670 ایکڑ رقبے پر فصلوں کی کاشت درج کی گئی ہے، جس میں 4,37,698 ایکڑ پر کپاس کی کاشت ہوئی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں کَنْدی کی کاشت بھی 44 ہزار ایکڑ سے بڑھ کر 56,751 ایکڑ تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساتھ نالہ اور متھڈی واگُو پروجیکٹس میں موجود پانی کے ذخائر زرعی ضروریات کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کے لیے بھی انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔
Advertising

اجلاس میں ضلع ایس پی جانکی شرمیلا، نرمل و عادل آباد لوکل باڈیز کے ایڈیشنل کلکٹرز بی وینکٹیشورلو اور ایس راجیشور، ایڈیشنل کلکٹر (ریونیو) کشور کمار، ڈی آر او راٹھوڑ رمیش، ڈی ایس پی سری نواس ریڈی سمیت مختلف محکموں کے عہدیدار موجود تھے۔
Advertising


