عادل آباد میں نشہ آور انجکشن کا گورکھ دھندا بے نقاب، آر ایم پی ڈاکٹر سمیت تین گرفتار
عادل آباد، 13 /جولائی(تلنگانہ وائس)عادل آباد ٹو ٹاؤن پولیس نے نشہ آور انجکشن "ٹرمین” کی غیر قانونی خرید و فروخت کے منظم ریکیٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے آر ایم پی ڈاکٹر سمیت تین ملزمین کو گرفتار کر لیا، جبکہ چار دیگر ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں انجکشن، سرنجیں، اسکوٹر اور موبائل فون ضبط کیے ہیں۔

ضلع ایس پی اکھل مہاجن، آئی پی ایس نے پولیس اے آر ہیڈکوآرٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ 12 جولائی کی شب آر ٹی سی بس اسٹانڈ کے قریب معمول کی گاڑیوں کی تلاشی کے دوران ایک مشتبہ اسکوٹر سوار کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ فرار ہونے کی کوشش ناکام ہونے پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ پوچھ گچھ میں اس کی شناخت سندھے جگناتھ (50)، آر ایم پی ڈاکٹر، ساکن شانتی نگر، عادل آباد کے طور پر ہوئی۔
Advertising

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم بعض میڈیکل ایجنسیوں اور میڈیکل اسٹوروں سے "ٹرمین” (Mephentermine Sulphate Injection IP) کم قیمت پر حاصل کر کے نشہ کے عادی افراد کو کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کرتا تھا۔
Advertising

بعد ازاں پولیس نے سید قمر الدین، مالک گیٹ ویل میڈیکل کو بھی گرفتار کر لیا، جبکہ رمیش گوڑ (جگدمبا فارمیسی اینڈ سرجیکلس)، سمیر، عرفان خان، مقید اور مشرف (جو ایک دوسرے مقدمہ میں جیل میں ہے) کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
Advertising

ایس پی نے صحافیوں کو بتایا کہ 390 روپے مالیت کا انجکشن غیر قانونی طور پر 1500 روپے تک فروخت کیا جا رہا تھا۔ یہ دوا صرف رجسٹرڈ ڈاکٹروں کے ذریعے طبی ضرورت کے تحت استعمال کی جا سکتی ہے، لیکن ملزمان اسے کھلے عام عام افراد کو فروخت کر کے ناجائز منافع کما رہے تھے۔
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 50 ٹرمین انجکشن، 190 انسولین سرنجیں، ایک اسکوٹر اور دو موبائل فون ضبط کیے ہیں۔ ایس پی نے کہا کہ اس سے قبل بھی سرکاری اسپتال سے اسی انجکشن کی چوری کے مقدمہ میں گرفتاریاں ہو چکی ہیں اور ایسے غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
اس کارروائی میں ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی، ٹو ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کے ناگراجو اور سب انسپکٹرس اکھل و پرنئے کمار نے اہم کردار ادا کیا۔

