عادل آباد میں مشترکہ فوجی و شہری ہوائی اڈے کی راہ ہموار، حکومتِ تلنگانہ نے ₹2,278.14 کروڑ منظور کر دیے

عادل آباد میں مشترکہ فوجی و شہری ہوائی اڈے کی راہ ہموار، حکومتِ تلنگانہ نے ₹2,278.14 کروڑ منظور کر دیے

حیدرآباد، 26 جولائی(تلنگانہ وائس ڈیسک)

حکومتِ تلنگانہ نے ضلع عادل آباد میں مشترکہ فوجی اور شہری ہوائی اڈے (Joint User Airport) کے قیام کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے جی او ایم ایس نمبر 36 جاری کر دیا ہے۔ اس حکم نامے کے تحت 2,009.23 ایکڑ اراضی کے حصول کے لیے ₹2,278.14 کروڑ کی انتظامی منظوری دی گئی ہے۔

سرکاری حکم نامے کے مطابق اس منصوبے کو ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (AAI) اور انڈین ایئر فورس (IAF) کے اشتراک سے تیار کیا جائے گا، جہاں مسافر پروازوں کے ساتھ ساتھ کارگو خدمات، ایم آر او (Maintenance, Repair & Overhaul)، ہینگرز اور فضائیہ کی تربیتی سرگرمیوں کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

Advertising

حکومت کے مطابق منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 2,009.23 ایکڑ اراضی درکار ہوگی، جس میں 1,609.23 ایکڑ انڈین ایئر فورس اور 400 ایکڑ سول ایوی ایشن انکلیو، کارگو، ایم آر او اور دیگر سہولتوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔

حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ پہلے 700 ایکڑ اراضی کے حصول سے متعلق جاری احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے اب نئے منصوبے کے مطابق اراضی حاصل کی جائے گی۔ ضلع کلکٹر عادل آباد کو ہدایت دی گئی ہے کہ زمین کے حصول کے ساتھ تمام رکاوٹیں، بشمول موجودہ آر اینڈ بی سڑکوں کی منتقلی، 765 کے وی ہائی ٹینشن ٹاورز کی منتقلی، ندی نالوں کا رخ موڑنے، پینے کے پانی کی لائنوں کی منتقلی اور بجلی کے کھمبوں کی منتقلی جیسے کام 31 دسمبر 2026 تک مکمل کیے جائیں۔

Advertising

منصوبے کے لیے منظور شدہ بجٹ میں زمین کے حصول پر ₹1,555.11 کروڑ، ہائی ٹینشن ٹاورز کی منتقلی پر ₹310 کروڑ، مشن بھاگیرتھا کی پانی کی لائنوں کی منتقلی پر ₹267.23 کروڑ، آر اینڈ بی سڑکوں کی تبدیلی پر ₹35 کروڑ، تعمیراتی تخمینے پر ₹31 کروڑ، آبپاشی نالوں کی منتقلی پر ₹57.49 کروڑ اور بجلی کے کھمبوں کی منتقلی پر ₹18.76 کروڑ شامل ہیں۔

Advertising

حکومت نے وزارتِ دفاع اور وزارتِ شہری ہوا بازی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ منصوبے سے متعلق اراضی کے حصول اور تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے اخراجات ریاستی حکومت برداشت کرے گی تاکہ عادل آباد ہوائی اڈے کی تعمیر کا کام جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔

Advertising

یہ احکامات حکومتِ تلنگانہ کے خصوصی چیف سکریٹری وکاس راج کی جانب سے گورنرِ تلنگانہ کے نام سے جاری کیے گئے ہیں۔