عادل آباد۔26/جولائی(تلنگانہ وائس ڈیسک)
معاشرے میں بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جو بظاہر خوشحال دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں شدید مالی مشکلات، قرض، بیماری یا بے روزگاری کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی عزتِ نفس کی خاطر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے، نہ اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے خوددار اور سفید پوش لوگوں کو تلاش کرنا اور ان کی خاموشی سے مدد کرنا اسلام کی عظیم تعلیمات میں شامل ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
> "اگر تم صدقات ظاہر کرکے دو تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر انہیں چھپا کر فقراء کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔” (سورۃ البقرہ: 271)
ایک اور مقام پر فرمایا:
> "تم نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔” (سورۃ آل عمران: 92)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> "جو شخص کسی مسلمان کی دنیا کی ایک تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی ایک تکلیف دور فرمائے گا۔” (صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
> "اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اسلام صرف وقتی امداد کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ مستقل حل کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ اگر کسی کے پاس روزگار نہیں تو اسے مناسب کاروبار شروع کروا دینا، کسی مقروض کا قرض ادا کر دینا، مریض کے علاج کے اخراجات برداشت کرنا، کسی طالب علم کی تعلیم کا خرچ اٹھانا یا ضرورت مند کو خوش دلی سے ہدیہ کے طور پر رقم دینا ایسی نیکیاں ہیں جن کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بے حد عظیم ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ صاحبِ استطاعت افراد خود ایسے مستحقین کو تلاش کریں۔ مدد کرتے وقت نہ تصویر کشی ہو، نہ تشہیر، نہ سوشل میڈیا پر نمائش اور نہ بعد میں احسان جتانے کا رویہ۔ قرآن مجید میں واضح حکم ہے:
"اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر ضائع نہ کرو۔” (سورۃ البقرہ: 264)
Advertising

نبی کریم ﷺ نے ان خوش نصیب لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں قیامت کے دن اللہ اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا، ان میں ایک وہ شخص بھی ہے:
> "جس نے اس قدر پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہوا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
آج معاشرے کو ایسے ہی مخیر حضرات کی ضرورت ہے جو خاموشی سے دکھی دلوں کا سہارا بنیں، بے روزگار کو روزگار دیں، مقروض کو قرض سے نجات دلائیں، مریض کا علاج کرائیں اور سفید پوش خاندانوں کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر ان کی ضروریات پوری کریں۔
Advertising

یاد رکھیے، حقیقی نیکی وہ ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے کی جائے۔ شہرت، نام و نمود اور تعریف کی خواہش کے بغیر کیا گیا ایک چھوٹا سا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا ہو سکتا ہے۔ اگر ہم سب اپنے اردگرد صرف ایک ضرورت مند خاندان کی خاموشی سے کفالت کا عزم کرلیں تو نہ صرف کئی گھروں کے چراغ روشن ہوں گے بلکہ ہمارا معاشرہ بھی اخوت، محبت اور رحمت کا گہوارہ بن جائے گا۔

