تلنگانہ میں 80 ہزار اقلیتی طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پروگرام کا آغاز
وزیرِ اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین کی قیادت میں تاریخی اقدام، 15 اگست سے مفت تربیت شروع ہوگی
حیدرآباد، 13/ جولائی(تلنگانہ وائس) تلنگانہ حکومت نے اقلیتی طلبہ کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیار کرنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریاست بھر کے تلنگانہ مائنارٹیز ریزیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز سوسائٹی (TMREIS) کے 205 اسکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تقریباً 80 ہزار طلبہ کے لیے اے آئی ریڈی نیس اینڈ ڈیجیٹل سیفٹی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ پروگرام وزیر اعلیٰ اے. ریونت ریڈی کی قیادت میں محکمہ اقلیتی بہبود، TMREIS، MASK NextGen اور Daxa Consulting Private Limited (DCPL) کے اشتراک سے نافذ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے لیے Daxa Consulting کو ریاستی سطح پر اسٹریٹجک اور گلوبل امپلیمنٹیشن پارٹنر منتخب کیا گیا ہے۔

وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی ٹیکنالوجی ہے اور تلنگانہ حکومت چاہتی ہے کہ اقلیتی طلبہ اس میدان میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین سالہ شراکت داری کے تحت طلبہ کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تحفظ، انگریزی ابلاغ، قائدانہ صلاحیتوں، تنقیدی سوچ اور اختراعی مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔
Advertisment

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام 15 اگست 2026 سے شروع ہوگا ۔ طلبہ کے لیے مکمل طور پر مفت ہوگا۔ یہ منصوبہ سماجی ذمہ داری (CSR) کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔
Adv

محمد اظہرالدین نے خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ حکومت طالبات کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل کی قیادت کے لیے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
Advertisment

پروگرام کے تحت طلبہ کو ایک جدید، گیمیفائیڈ اور خود رفتار (Self-paced) ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارم کے ذریعے تربیت دی جائے گی، جہاں انہیں مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ اور محفوظ ڈیجیٹل استعمال کی بھی تعلیم دی جائے گی۔
Advertisment

اس موقع پر MASK NextGen کی بانی و سی ای او اوَنی ترویدی، Daxa Consulting کے جوزف کرسٹوفر، TMREIS کے سیکریٹری بی۔ شفیع اللہ اور TMREIS کے صدر فہیم قریشی کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
Advertisment

یہ پروگرام ملک میں اقلیتی طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت کی تعلیم فراہم کرنے والے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے اور تلنگانہ کو ٹیکنالوجی، اختراع اور معیاری تعلیم کا عالمی مرکز بنانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے۔

