"سود خوروں پر پولیس کا شکنجہ، باپ بیٹا گرفتار؛ دو کروڑ مالیت کی دستاویزات برآمد” ضلع ایس پی اکھل مہاجن آئی پی ایس کی پریس کانفرنس

"غریبوں کا خون نچوڑنے والے سود خور گرفتار، ایس سی و ایس ٹی متاثرین کو انصاف”

"ایچوڑا میں سودی کاروبار بے نقاب، باپ بیٹے کے قبضے سے سینکڑوں چیکس اور دستاویزات ضبط”

"زیادہ سود، دھمکیاں اور ذات پات کی توہین؛ دو سود خور جیل پہنچ گئے”

عادل آباد۔ 22/جون (تلنگانہ وائس)

عادل آباد ضلع کے ایچوڑا پولیس اسٹیشن حدود میں غیر قانونی سودی کاروبار کے خلاف پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے عوام کا استحصال کرنے والے باپ بیٹے کو گرفتار کر لیا۔ ضلع ایس پی اکھل مہاجن آئی پی ایس نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ملزمان نہ صرف بھاری سود وصول کر رہے تھے بلکہ ایس سی اور ایس ٹی طبقات سے تعلق رکھنے والے متاثرین کو دھمکیاں دے کر ذہنی اور سماجی طور پر ہراساں بھی کر رہے تھے۔

ایس پی نے بتایا کہ  ایچوڑا کے ایک سرکاری استاد نے مالی ضرورت کے تحت ملزم اررولا وینکٹ رمنہ سے دو لاکھ روپے قرض حاصل کیا تھا۔ قرض دیتے وقت ملزم نے ضمانت کے نام پر چیکس، بانڈ پیپرز اور پرامسری نوٹس اپنے قبضے میں لے لیے۔ حیرت انگیز طور پر اصل قرض ادا کیے جانے کے باوجود ملزم نے بھاری سود کا مطالبہ جاری رکھا اور دستاویزات کے غلط استعمال اور بدنام کرنے کی دھمکیاں دے کر مزید دو لاکھ روپے وصول کر لیے۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے متاثرہ شخص کو ذات پات کے نام پر توہین آمیز الفاظ کہہ کر ذہنی اذیت پہنچائی۔ پولیس کو شواہد ملے ہیں کہ اسی طرز پر کئی دیگر ایس ٹی طبقہ کے افراد کو بھی سود کے جال میں پھنساکر ان کا استحصال کیا گیا۔

گرفتار ملزمان میں اررولا وینکٹ رمنہ (56 سال) اور اس کا بیٹا اررولا اوپیندر (33 سال) شامل ہیں۔ دونوں کو گرفتار کرکے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس نے ملزمان کے گھر پر چھاپہ مار کر 90 پرامسری نوٹس، 26 خالی بانڈ پیپرز، 366 چیکس، 7 پٹہ دار پاس بکس، 6 آدھار کارڈز، 4 بینک پاس بکس اور ایک پین کارڈ ضبط کیا۔ برآمد شدہ دستاویزات کی مالیت تقریباً دو کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے، جس سے اس غیر قانونی کاروبار کے بڑے پیمانے پر ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ضلع ایس پی اکھل مہاجن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر قانونی سود خوروں سے ہوشیار رہیں اور اگر کوئی شخص زائد سود وصول کرنے، دھمکانے یا ہراساں کرنے کی کوشش کرے تو بلا خوف و خطر فوری طور پر پولیس سے رجوع کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی اور متاثرین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔