کاماریڈی کو ریاست کا مثالی حلقہ بنائیں گے، تعلیم، صحت، کھیل اور آبپاشی کے شعبوں میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان ۔محمد علی شبیر

کاماریڈی کو ریاست کا مثالی حلقہ بنانا میرا نصب العین،تعلیم، صحت، کھیل، آبپاشی، بنیادی سہولیات اور روزگار کے فروغ پر خصوصی توجہ، کاماریڈی میں واقع پارٹی آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں محمد علی شبیر نے کیامختلف ترقیاتی منصوبوں کا اعلان

تلنگانہ وائس

کاماریڈی۔یکم/جولائی(سیدکوثرعلی کی رپورٹ)سرکاری مشیر محمد علی شبیر نے کہا ہے کہ کاماریڈی اسمبلی حلقہ کو ہر شعبے میں ترقی دے کر ریاست کا مثالی حلقہ بنانا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، کھیل، آبپاشی، بنیادی سہولیات، صنعتوں کے قیام، نوجوانوں کے روزگار اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جامع منصوبوں پر عمل کیا جا رہا ہے۔کاماریڈی میں واقع حلقہ آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کاماریڈی کو ایجوکیشن ہب بنانے کے لیے خصوصی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جس کاماریڈی بوائز ہائی اسکول میں انہوں نے تعلیم حاصل کی، اس کی ترقی کے لیے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے پانچ کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کر کے کارپوریٹ تعلیمی اداروں کے ہم پلہ بنایا جائے گا۔ کاماریڈی بوائز ہائی اسکول میں اے سی کلاس رومز، ڈیجیٹل کلاس رومز، جدید سائنس اور کمپیوٹر لیبارٹریاں، اسمارٹ لائبریری، صاف پینے کے پانی کی سہولت، کھیل کے میدان اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کر کے اسے ریاست کا ماڈل سرکاری اسکول بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے سی ایم آر فنڈز کے ساتھ ضرورت پڑنے پر وہ اپنی ذاتی رقم بھی خرچ کریں گے۔محمد علی شبیر نے بتایا کہ کاماریڈی کے اندرا گاندھی اسٹیڈیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس این فارما کمپنی نے اپنے سی ایس آر فنڈ سے 78 لاکھ روپے فراہم کرتے ہوئے جرمن ٹیکنالوجی پر مبنی ڈے لائٹ اسٹیڈیم کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے منظور شدہ نو کروڑ روپے سے آٹھ لین ایتھلیٹکس ٹریک، چار ٹینس کورٹس، والی بال کورٹ، یوگا بھون، جدید جم، خواتین و مردوں کے لیے علیحدہ چینجنگ رومز، رائفل شوٹنگ کی سہولت اور جلد ہی سوئمنگ پول بھی تعمیر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ کاماریڈی سے قومی اور بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی تیار ہوںانہوں نے بتایا کہ دومہ کنڈہ منڈل مرکز میں دس کروڑ روپے کی لاگت سے فائر اسٹیشن، پچاس بستروں پر مشتمل سرکاری اسپتال اور ایم آر او آفس کی تعمیر کے لیے انتظامی منظوری مل چکی ہے اور جلد ہی کام شروع ہوگا۔

محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کاماریڈی کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور ہر ترقیاتی منصوبے کے لیے مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاماریڈی شہر میں جدید سڑکیں، سینٹرل لائٹنگ، ڈرینیج نظام، پینے کے پانی کی توسیع، پارکوں کی ترقی، اہم چوراہوں کی خوبصورتی، سی سی سڑکیں، صفائی ستھرائی اور زیر زمین سیوریج جیسے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

دیہی علاقوں میں بہتر سڑکیں، اندرونی ڈرینیج، کسانوں کے لیے بجلی اور آبپاشی کی سہولیات، دیہی صحت مراکز کی ترقی، سرکاری اسکولوں کی جدید کاری، آنگن واڑی مراکز کی مضبوطی اور خواتین کے خود امدادی گروپوں کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاماریڈی ضلع میں صنعتوں کے قیام کے لیے سازگار ماحول پیدا کر کے نوجوانوں کو مقامی سطح پر روزگار فراہم کیا جائے گا، جبکہ اسکل ڈیولپمنٹ مراکز قائم کر کے روزگار اور خود روزگاری کے مواقع بڑھائے جائیں گے۔زرعی شعبے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بروقت آبپاشی، کھاد اور بیج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ کی بہتر سہولیات، گوداموں اور کولڈ اسٹوریج کے قیام پر بھی کام جاری ہےمحمد علی شبیر نے کہا کہ کاماریڈی کے آبپاشی مسئلے کا مستقل حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی سے ملاقات کر کے کالیشورم (پرانہیتا–چیویلا) پروجیکٹ کے کاموں کو تیز کرنے پر بات کی جائے گی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے کالیشورم منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلیوں کے باعث کاماریڈی ضلع کو آبپاشی کا پانی بروقت نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور میں تیار کردہ اصل منصوبے کے مطابق پروجیکٹ مکمل کر کے کاماریڈی کے کسانوں کا خواب پورا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کاماریڈی کی ہمہ جہت ترقی ہی ان کا مشن ہے اور عوامی امنگوں کے مطابق ہر ترقیاتی منصوبہ شفاف انداز میں نافذ کیا جائے گا۔

اس موقع پر ضلع لائبریری چیئرمین مددی چندرکانت ریڈی، میونسپل چیئرپرسن اِپا اوما سرینواس، ٹاؤن صدر آئرینی سندیپ، ارکان بلدیہ سیدانوراحمد ،محمدامجد،محمد اسحاق شیرو، لڈو،واجد کے علاوہ قائدین سید مسعود علی سید سراج الدین،محمد قدیر مختلف عوامی نمائندے، سرکاری افسران اور پارٹی قائدین بڑی تعداد میں موجود تھے