ڈاکٹر کو دھمکانے اور بدسلوکی کا معاملہ، تین افراد کے خلاف مقدمہ درج

اسپتال میں گھس کر ڈاکٹر کو دھمکانے کا الزام

حاملہ خاتون کے علاج کے معاملے پر تنازعہ

ایم آر پی ایس اور ڈی ایس پی پارٹی رہنماؤں سمیت تین نامزد

عادل آباد، 16 /جون(ڈیسک/ تلنگانہ وائس)

عادل آباد کے ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن حدود میں واقع ایک نجی اسپتال کی خاتون ڈاکٹر کو مبینہ طور پر دھمکانے، بدسلوکی کرنے اور ہراساں کرنے کے الزام میں تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ون ٹاؤن سرکل انسپکٹر بی سنیل کمار کے مطابق ایم آر پی ایس رہنما راجنا، ڈی ایس پی پارٹی کے رہنما اگّی ملّا گنیش اور مقامی شخص ملیش سمیت دیگر افراد کے خلاف کیس درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق بھکتاپور کی رہنے والی ڈاکٹر شیاملا رانی نے شکایت درج کرائی کہ 8 جون کو مانڈاگڑا  گاؤں کی حاملہ خاتون وانی شری کو زچگی کی تکلیف کے باعث سری رام نرسنگ ہوم میں داخل کیا گیا تھا۔ طبی معائنے کے دوران حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر اور بچے کی پیچیدہ حالت کے باعث فوری آپریشن کیا گیا۔

آپریشن کے بعد مریضہ کی حالت بگڑنے پر اسے وینٹی لیٹر سہولت والے اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں بہتر علاج کے لیے ناگپور کے کمس اسپتال ریفر کیا گیا۔ شکایت کے مطابق 15 جون کو مریضہ کے رشتہ داروں اور دیگر افراد پر مشتمل تقریباً 50 افراد اسپتال پہنچے، ڈاکٹر کے چیمبر میں داخل ہوکر بدسلوکی کی اور علاج کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے اسپتال میں توڑ پھوڑ اور مریضہ کو کچھ ہونے کی صورت میں لاش اسپتال کے سامنے لاکر احتجاج کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اشتہار

سی آئی بی سنیل کمار نے عوام سے اپیل کی ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو ہراساں کرنے یا دھمکانے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

#Health

#adilabad

#Crime

#Hospital