آدھار کارڈ میں غیر قانونی طور پر عمر میں تبدیلی کرنے والے سی ایس سی سنٹر آپریٹر کے خلاف کارروائی، گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا

آدھار کارڈ میں غیر قانونی طور پر عمر میں تبدیلی کرنے والے سی ایس سی سنٹر آپریٹر کے خلاف کارروائی، گرفتار کرکےعدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا

Adilabad  Top  News

عادل آباد، 18 /جون(تلنگانہ وائس) موالا پولیس نے آدھار کارڈ میں غیر قانونی طور پر تاریخِ پیدائش اور عمر کے اندراجات میں تبدیلی کرکے عوام کو دھوکہ دینے والے ایک سی ایس سی (کامن سروس سنٹر) آپریٹر کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ اس بات کی اطلاع ماول پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او بی ڈی پریم کمار نے صحافتی بیان میں  دی۔

تفصیلات کے مطابق عادل آباد شہر کی "کے آر کے کالونی” سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنی 16 سالہ بیٹی کے لیے رشتہ آنے پر اس کی عمر آدھار کارڈ میں 22 سال ظاہر کروانے کی غرض سے بالاجی نگر میں قائم ایک زیراکس اور سی ایس سی سنٹر سے رابطہ کیا۔ الزام ہے کہ سنٹر آپریٹر نے دو ہزار روپے وصول کرکے آدھار کارڈ میں تاریخِ پیدائش تبدیل کرتے ہوئے جعلی تفصیلات کے ساتھ نیا آدھار کارڈ تیار کیا۔

پولیس کے مطابق ایک اور شکایت میں بھی یہی انکشاف ہوا کہ ملزم نے ایک دوسری لڑکی کے آدھار کارڈ میں غیر قانونی طور پر عمر میں تبدیلی کرکے دو ہزار روپے وصول کیے تھے۔ عوام کو دھوکہ دینے اور سرکاری ریکارڈ میں غیر قانونی تبدیلیاں کرنے کی شکایات موصول ہونے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔

پولیس نے کارروائی کے دوران آدھار کارڈ میں تبدیلی کے لیے استعمال کیا جانے والا کمپیوٹر بھی ضبط کر لیا۔

گرفتار ملزم کی شناخت بٹّو وینکٹیش (35 سال) ولد بٹّو نرسمہلو، ساکن بالاجی نگر، عادل آباد کے طور پر ہوئی ہے، جو زیراکس اور سی ایس سی سنٹر چلاتا ہے۔

اشتہار

ایس ایچ او بی ڈی پریم کمار نے خبردار کیا کہ سرکاری شناختی دستاویزات میں غلط معلومات درج کرنا اور آدھار کی تفصیلات میں غیر قانونی تبدیلی کرنا سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔