تلنگانہ رکشنا سینا مستقبل میں مضبوط متبادل سیاسی طاقت بن کر ابھرے گی ۔ کویتا

تلنگانہ رکشنا سینا مستقبل میں مضبوط متبادل سیاسی طاقت بن کر ابھرے گی: کویتا

کانگریس حکومت میں کسانوں اور مزدوروں کی حالت ابتر، رعیتو بھروسہ اور یوریا فراہمی میں ناکامی کا الزام

پداپلی، 19/ جون۔(تلنگانہ وائس)

تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ ریاست میں کانگریس حکومت عوامی مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور عوام اب ایک مضبوط متبادل سیاسی طاقت کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا مستقبل میں ریاست کی ایک مؤثر اور طاقتور سیاسی قوت بن کر ابھرے گی۔

پداپلی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے ریاستی حکومت اور مقامی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزراء بھٹی وکرامارکا، سریدھر بابو اور دیگر قائدین عوامی وسائل اور سنگارینی علاقوں کی دولت کو لوٹنے میں مصروف ہیں، جبکہ عوامی مسائل کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

کویتا نے بتایا کہ گزشتہ چار دنوں کے دوران "بائی باٹا” پروگرام کے تحت انہوں نے چنور، بیلّم پلی، منچریال، آصف آباد، کاغذ نگر، راماگنڈم اور منتھنی سمیت مختلف سنگارینی علاقوں کا دورہ کیا، جہاں مزدوروں، کسانوں اور مقامی عوام کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دورے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے بھوپال پلی کی کوئلہ کانوں کا بھی معائنہ کریں گی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس قائدین عوامی خدمت کے بجائے اپنے خاندانوں اور قریبی افراد کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہیں، جبکہ تینوں اضلاع میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

کسانوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ دھان کی خریداری میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بعض علاقوں میں کسان خودکشی کی کوششوں تک پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ایک نوجوان کسان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملرس کی جانب سے دھان خریدنے سے انکار کے بعد اس نے خودکشی کی کوشش کی۔

انہوں نے حکومت پر رعیتو بھروسہ امداد کی بروقت فراہمی میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یوریا کی قلت نے کسانوں کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ "یوریا ایپ” کو کسان مخالف قرار دیتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ کسانوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کویتا نے کہا کہ انتخابات سے قبل کانگریس نے تمام اقسام کے دھان پر بونس دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد صرف چند اقسام تک بونس کو محدود کر دیا گیا، جو عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسی واضح کرے۔

سنگارینی میں روزگار کے مواقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہزاروں نوجوان ملازمتوں کے منتظر ہیں، لیکن حکومت محدود تعداد میں تقررات کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کسان بھروسہ اور ملازمتوں جیسے پروگراموں کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

کویتا نے کوئلہ بیلٹ علاقوں میں ریت، مٹی اور راکھ کے غیر قانونی کاروبار پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی عوام کے مفادات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پداپلی کے پتی پاکا ریزروائر سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کی عدم تکمیل پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ماحولیاتی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راماگنڈم میں آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے اور گوداوری کے آلودہ پانی سے عوام کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے حکومت سے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

کویتا نے مزید کہا کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے سے قبل ایک سال میں دو لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب تک اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاکھوں نوجوان روزگار سے محروم ہیں اور عوام حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا کرپشن سے پاک حکمرانی، مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور سنگارینی علاقوں کی ترقی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور مستقبل میں عوام کے لیے ایک مضبوط سیاسی متبادل ثابت ہوگی۔