لوک عدالت کے ذریعے مقدمات کا فوری اور خوش اسلوبی سے تصفیہ ممکن ۔ ضلع سیشن جج پربھاکر راؤ

لوک عدالت کے ذریعے مقدمات کا فوری اور خوش اسلوبی سے تصفیہ ممکن: ضلع سیشن جج پربھاکر راؤ

عادل آباد، 20 جون(تلنگانہ وائس) عدالتوں میں طویل عرصہ سے زیر التواء مقدمات کو لوک عدالت کے ذریعے جلد، آسان اور باہمی رضامندی کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ضلع سیشن جج پربھاکر راؤ نے ضلع عدالت کے احاطے میں منعقدہ قومی لوک عدالت پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ہفتہ کے روز منعقدہ قومی لوک عدالت میں ضلع بھر سے تعلق رکھنے والے متعدد دیوانی اور فوجداری مقدمات کو فریقین کے درمیان مفاہمت اور باہمی رضامندی کے ذریعے کامیابی کے ساتھ نمٹایا گیا۔ اس موقع پر ضلع پرنسپل جج نے کہا کہ لوک عدالت میں مقدمات کے تصفیہ کی صورت میں عدالتی فیس بھی واپس کی جاتی ہے، جس سے فریقین کو مالی اور زمانی دونوں اعتبار سے فائدہ پہنچتا ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برسوں سے زیر التواء مقدمات کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرائیں اور غیر ضروری عدالتی اخراجات و وقت کے ضیاع سے بچیں۔

ضلع کلکٹر راجرشی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوک عدالت ایک بہترین پلیٹ فارم ہے، جہاں فریقین عدالتوں کے طویل چکروں سے نجات حاصل کر کے باہمی اتفاقِ رائے سے اپنے تنازعات کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانی رنجشوں اور اختلافات کو بھلا کر مفاہمت کے ذریعے مسائل حل کرنا ہی پُرامن زندگی کی ضمانت ہے۔

بعد ازاں ضلع جج، ضلع کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے ایک سائبر کرائم متاثرہ شخص کو ایک لاکھ روپے کی پروسیڈنگ کاپی حوالے کی، جبکہ اراضی حصولیابی (لینڈ ایکوزیشن) کے مستحقین میں 65 لاکھ 33 ہزار 437 روپے مالیت کے چیکس تقسیم کیے گئے۔

اس قومی لوک عدالت پروگرام میں ضلع ایس پی اکھل مہاجن، بار اسوسی ایشن کے نمائندہ ناگیش، دیگر جج صاحبان، وکلاء تنظیموں کے عہدیداران، عدالتی عملہ اور مقدمات کے فریقین نے شرکت کی۔