عادل آباد۔ 9/جولائی(تلنگانہ وائس)
عادل آباد سی پی ایم ضلع سکریٹری درشنال ملیش نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی رکن اسمبلی پائل شنکر کی اہلیہ کے نام مبینہ طور پر اسائنڈ (Assigned) اراضی کی غیر قانونی رجسٹریشن کے معاملے کی شفاف عدالتی جانچ کرائی جائے اور اگر رجسٹریشن غیر قانونی ثابت ہو تو اسے فوری طور پر منسوخ کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

جمعرات کو سندرایا بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے درشنالا ملیش نے کہا کہ بھٹّی ساورگاؤں کے سروے نمبر 72/3 میں واقع اسائنڈ اراضی کے سلسلے میں سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں پر شفافیت برقرار رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس لئے رکن اسمبلی کو بھی جانچ میں مکمل تعاون کرتے ہوئے اپنی بے گناہی اور شفافیت ثابت کرنی چاہیے۔
Advertisment

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف غریبوں کو رہائش کے لیے زمین فراہم نہیں کی جا رہی، جبکہ دوسری جانب مبینہ طور پر غیر قانونی اراضی سودوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انڈسٹریل کاریڈور کے نام پر رہن رکھی گئی اراضی کی فروخت اور سی سی آئی صنعت کی زمینوں سے متعلق بھی مختلف الزامات گردش کر رہے ہیں، جن پر حکومت اور متعلقہ عوامی نمائندوں کو وضاحت پیش کرنی چاہیے۔

سی پی ایم رہنما نے کہا کہ اگر حکومت واقعی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو رکن اسمبلی کے خلاف موصول ہونے والے الزامات کی تحقیقات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بی جے پی اور کانگریس دونوں جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کریں اور شفافیت کا ثبوت دیں۔

پریس کانفرنس میں پارٹی کے سینئر رہنما بنڈی دتاتری، پوسم سچن، بوجّا آشنا، آترم کشنّا، کوٹنک سکّو، رامولو سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے۔


