نظام آباد کے خطاط محمد صادق ‘جہیز کے خلاف خاموش داعی
***
مجیدعارف نظام آبادی
majeedaarif@gmail.com
نظام آباد۔4/اگست (تلنگانہ وائس)
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو سادگی، عدل اور آسانی کو فروغ دیتا ہے۔ نکاح کو عبادت اور معاشرے کی پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں جہیز جیسی غیر اسلامی رسم نے اس مقدس رشتے کو ایک مہنگا سودا بنا دیا ہے۔ اس برائی نے نہ صرف ہزاروں غریب خاندانوں کو قرض اور پریشانی میں مبتلا کیا بلکہ بے شمار بیٹیوں کی شادیاں بھی تاخیر کا شکار ہوئیں۔

ایسے حالات میں نظام آباد کے معروف خطاط محمد صادق کی جہیز مخالف مہم قابلِ تحسین ہے۔ وہ اپنی خوبصورت خطاطی اور سماجی شعور کے ذریعے عوام میں یہ پیغام عام کر رہے ہیں کہ نکاح کو آسان بنایا جائے اور جہیز جیسی لعنت سے معاشرے کو پاک کیا جائے۔ وہ مختلف نکڑ اور چوراہوں پر جہاں سے لوگوں کا گزر زیادہ ہوتا ہے۔ خوبصورت خطاطی کے ذریعے اردو و انگریزی زبان میں جاذب نظر جہیز مخالف اقوال لکھتے ہیں۔ تاکہ نوجوانوں میں شعور بیدار ہو۔
فن جب اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بن جائے تو اس کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
Advertising

اس کے علاوہ محمد صادق نے جہیز جیسی سماجی برائی کے خلاف ایک اور مؤثر اصلاحی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔ وہ مختلف مساجد کے ائمہ کرام اور خطباء سے ملاقات کرکے ان کے ذریعے جہیز کی قباحت، سادہ نکاح کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات پر مبنی مختصر اصلاحی پیغامات ریکارڈ کرواتے ہیں۔
Advertising

ان ویڈیو پیغامات کو وہ فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر نشر کرتے ہیں تاکہ نوجوان نسل، والدین اور معاشرہ اسلامی تعلیمات سے روشناس ہو سکے۔ اس مہم کا مقصد کسی فرد پر تنقید نہیں بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق آسان نکاح کو فروغ دینا، جہیز کی لعنت کا خاتمہ کرنا اور نوجوانوں میں دینی شعور، حسنِ اخلاق اور خودداری پیدا کرنا ہے۔
Advertising

Advertising

بلاشبہ، جب مساجد کے منبروں سے اصلاح کا پیغام جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے گھر گھر پہنچتا ہے تو اس کے مثبت اثرات معاشرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔ اسلام میں شوکت و نمائش یا جہیز کا مطالبہ نہیں، بلکہ دینداری، حسنِ اخلاق اور تقویٰ کو اصل معیار قرار دیا گیا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے نکاح کو آسان کرنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔ یہی تعلیمات آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ اگر آپ بھی اس مہم میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو محمد صادق سے ربط پیدا کرسکتے ہیں: 9603185113
محمد صادق نےبتایا کہ جہیز کی رسم نے نوجوانوں کے اخلاقی زوال میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ بعض نوجوان اپنی محنت اور کردار پر اعتماد کرنے کے بجائے دلہن کے گھر سے دولت، گاڑی، سونا اور دیگر سامان کی توقع رکھتے ہیں۔ اس لالچ سے خودداری، غیرت اور اسلامی اخلاق مجروح ہوتے ہیں، جبکہ کئی خاندان مالی بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور بعض اوقات گھریلو جھگڑے، طلاق اور ظلم و تشدد تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
Advertising

ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان خود عہد کریں کہ وہ جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے، والدین سادہ نکاح کو فروغ دیں، علماء، اساتذہ، سماجی کارکن اور اہلِ قلم اس برائی کے خلاف آواز بلند کریں، اور معاشرہ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرے جو اپنی عملی زندگی سے اس رسم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
Advertising

Advertising


