میرے والدِ محترم، مرحوم محمد عبدالرشید صاحبؒ ایک عظیم باپ، ایک مخلص داعی، ایک بے مثال مربی ۔ تحریر ڈاکٹر محمد ندیم ارشد

میرے والدِ محترم، مرحوم محمد عبدالرشید صاحبؒ

ایک عظیم باپ، ایک مخلص داعی، ایک بے مثال مربی

ڈاکٹر محمد ندیم ارشد و محمد نعمان ارشد 

(فرزندان مرحوم محمد عبدالرشید صاحب)

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

عادل آباد۔4/اگست(تلنگانہ وائس نیوز)

17 جولائی، بروز جمعہ، وقتِ تہجد، ہمارے والدِ محترم مرحوم محمد عبدالرشید صاحبؒ اس فانی دنیا کو الوداع کہہ کر اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی رحلت نے ہماری زندگی کا ایسا خلا پیدا کردیا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک ہی لمحے میں ہماری پوری دنیا بدل گئی۔ اگرچہ ہماری والدہ محترمہ، ہم تمام بہن بھائی، ہماری فیملیز اور بچوں کی چہل پہل سے گھر آباد ہے، لیکن بابا کی جدائی نے اس گھر کو ہمارے لیے ایک ویرانے میں تبدیل کر دیا ہے۔

شفقت و محبت کا پیکر

بابا ہم سب کے لیے سراپا شفقت و محبت تھے۔ وہ ہر وقت محبت کا اظہار کرتے، پریشانیوں میں حوصلہ دیتے، کامیابیوں پر دل کھول کر مبارک باد پیش کرتے، نیکی کی طرف رغبت دلاتے اور پورے خاندان کو اپنی محبت بھری سرپرستی کے سائے میں رکھتے۔

وہ اپنے نواسوں، نواسیوں، پوتوں اور پوتیوں کے ساتھ بچوں کی طرح گھل مل جاتے، ان کے ساتھ کھیلتے اور ان کی خوشیوں میں شریک رہتے۔ ہاسٹلوں میں زیرِ تعلیم بچوں کو فون کرکے ان کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتے۔ سخت مزاجی ان کی طبیعت میں نہ تھی۔ وہ یا تو حق بات کہتے یا خاموش رہتے۔ اخبارات، دینی لٹریچر اور علمی مطالعہ ان کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ تھا۔

تعلیم کی بنیاد رکھنے والے عظیم مربی

ہماری دینی اور عصری تعلیم پر انہوں نے خصوصی توجہ دی۔ عربی قاعدہ، قرآنِ کریم کی تعلیم اور تکمیلِ قرآن کا شرف ہمیں انہی کے ہاتھوں حاصل ہوا۔

یہ ہمارے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہے گا کہ تیسری جماعت تک ہماری باقاعدہ تعلیم گھر ہی میں بابا کی نگرانی میں ہوئی، اور جب ہم چوتھی جماعت میں اسکول داخل ہوئے تو تقریباً تمام مضامین میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے۔

انہوں نے نہ صرف ہم تمام بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی بلکہ ہر ایک کو پوسٹ گریجویشن تک پہنچایا۔ مجھے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم دلوا کر "ڈاکٹر” بننے کا موقع بھی انہی کی دعاؤں، محنت اور سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ آج ہم سب بہن بھائی جو مختلف شعبوں میں روزگار سے وابستہ ہیں، یہ سب ہمارے والد محترم کی دور اندیشی، قربانیوں اور مسلسل رہنمائی کا ثمر ہے۔

گھر کی دینی تربیت

بابا نے ہمیشہ اس بات کا اہتمام کیا کہ ہمارا گھر صرف رہائش گاہ نہ ہو بلکہ دینی تربیت کا مرکز بنے۔

روزانہ نمازِ فجر کے بعد درسِ قرآن اور مطالعۂ قرآن کی نشست منعقد ہوتی۔ وہ ہمیں زندگی گزارنے کے اسلامی آداب سکھاتے، باہمی محبت اور صلہ رحمی کی تلقین کرتے، اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے بچنے کی نصیحت کرتے اور آخرت کی فکر کو دنیا پر مقدم رکھنے کی تعلیم دیتے۔

رسولِ اکرم ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور سلفِ صالحین کی قربانیوں کے ایمان افروز واقعات سناتے تاکہ ہمارے دلوں میں دین کی محبت اور عمل کی رغبت پیدا ہو۔

اخلاق و کردار کا روشن نمونہ

خاندان، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوستوں کے ساتھ حسنِ سلوک ان کی نمایاں خصوصیت تھی۔

وہ اکثر اس حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے:

"جو تم سے تعلق توڑے، تم اس سے تعلق جوڑو، اور جو تمہیں محروم کرے، تم اسے عطا کرو۔”

وہ صرف اس حدیث کو بیان ہی نہیں کرتے تھے بلکہ پوری زندگی اس پر عمل بھی کرتے رہے اور ہمیں بھی اسی کی تلقین کرتے رہے۔

مشکلات اور آزمائشوں میں کبھی شکوہ زبان پر نہ لاتے۔ اللہ تعالیٰ پر کامل توکل، قناعت اور صبر ان کی شخصیت کا امتیاز تھا۔

سادگی اور قناعت

بابا نے اپنی پوری زندگی انتہائی سادگی کے ساتھ گزاری۔ برسوں تک سائیکل ہی ان کی سواری رہی۔ ہماری خواہش اور اصرار پر زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے ایک چھوٹی سی TVS XL خریدی، مگر شاید اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا کہ وہ اس سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ صرف ایک ماہ بعد ایک معمولی حادثہ پیش آیا، جس کے بعد انہوں نے گاڑی چلانا چھوڑ دیا۔

سرکاری ملازمت میں دیانت و امانت

انہوں نے اپنی سرکاری ملازمت پوری دیانت، امانت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ انجام دی۔

وقت کی پابندی ان کی عادت تھی۔ بلاوجہ رخصت لینا انہیں پسند نہ تھا۔ اگر کبھی تاخیر یا رخصت کی ضرورت پیش آتی تو باقاعدہ اطلاع دیتے۔ ہر شخص کا کام انصاف کے ساتھ کرتے اور کبھی سفارش یا جانبداری کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہونے دیتے۔

اگرچہ وہ دینی نقطۂ نظر سے ملازمت کی مجبوریوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور کئی مرتبہ رضاکارانہ ریٹائرمنٹ (Voluntary Retirement) کا ارادہ بھی ظاہر کیا، لیکن ہماری گزارش پر انہوں نے ملازمت جاری رکھی۔

تحریکی زندگی اور دعوتی خدمات

بابا کی زندگی کا ایک روشن باب ان کی تحریکی وابستگی تھی۔

ان دنوں جب نہ سڑکیں بہتر تھیں، نہ آمد و رفت کی سہولتیں، نہ موبائل فون اور نہ ہی جدید ذرائع ابلاغ، وہ صرف پوسٹ کارڈ کے ذریعے اطلاعات حاصل کرکے متحدہ ضلع عادل آباد کے دور دراز علاقوں میں مسلسل دعوتی اور تنظیمی سفر کرتے رہے۔

زندگی کے آخری ایام تک جماعت اسلامی ہند کے کاموں سے وابستہ رہے۔ بیماری کی حالت میں بھی جماعتی سرگرمیوں کے بارے میں دریافت کرتے، اجتماعات کی روداد سنتے، مرکز جماعت کے یوٹیوب چینل سے وابستہ رہتے اور خصوصاً مسجد اشاعتِ اسلام، دہلی کے خطباتِ جمعہ پابندی سے سماعت فرماتے۔ مرکز اور حلقہ کے ذمہ داران کی خیریت دریافت کرنا ان کا معمول تھا۔

آپ نے طویل عرصہ امیرِ مقامی جماعت اسلامی ہند، شہر عادل آباد اور ناظم ضلع، متحدہ ضلع عادل آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

دینی و سماجی خدمات

مرحوم محمد عبدالرشید صاحبؒ جماعت اسلامی ہند کے متحدہ ضلع عادل آباد کے تاسیسی ارکان میں شمار ہوتے تھے۔ ایمرجنسی کے دور سے لے کر آخری وقت تک مختلف تحریکی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

تقویٰ، پرہیزگاری اور اخلاص ان کی شناخت تھی۔ شہر کے دینی، سماجی اور معاشرتی مسائل میں ہمیشہ دلچسپی لیتے رہے۔

شرعی پنچایت جامع مسجد عادل آباد میں اپنی قیمتی خدمات انجام دیں۔

مدینہ مسجد، عادل آباد میں تقریباً پچیس (25) برس اعزازی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دوران اپنے فکر انگیز خطباتِ جمعہ کے ذریعے امت کو دینی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے رہے۔

اسی مسجد میں ہفتہ وار درسِ قرآن کے ذریعے مکمل قرآنِ کریم کا درس دینے کی سعادت حاصل کی۔

وہ ایک معروف عوامی مقرر تھے۔ ضلع بھر میں ان کے خطابات کو بے حد پسند کیا جاتا تھا۔ جامع مسجد عادل آباد سمیت مختلف مقامات پر اجتماعاتِ عام سے خطاب کرتے ہوئے وہ لوگوں کو تقویٰ، اصلاحِ نفس اور مومنانہ زندگی اختیار کرنے کی دعوت دیتے رہے۔

زندگی کے آخری لمحات

بابا کے آخری لمحات بھی ان کی پوری زندگی کی طرح ایمان افروز تھے۔

ان کی زبان پر مسلسل ذکرِ الٰہی، کلمۂ طیبہ اور دعائیں جاری تھیں۔ شہادت کی انگلی بار بار اٹھاتے، اپنے عزیزوں سے گفتگو کرتے، شدید جسمانی تکلیف کے باوجود کبھی شکایت نہ کرتے۔

وہ بار بار فرماتے:

"اللہ ہمارا سب سے بڑا سہارا ہے، اگر وہ ہمارے ساتھ ہے تو کسی چیز کی فکر نہیں۔”

وہ خود بھی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی فکر کرتے رہے اور ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی تلقین کرتے رہے۔

آخرکار "اللہ، اللہ” کرتے، کلمۂ طیبہ کا ورد کرتے، چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

دعائے مغفرت

اے ہمارے رب!

ہمارے والدِ محترم، مرحوم محمد عبدالرشید صاحبؒ پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرما۔

ان کی تمام لغزشوں کو معاف فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کے درجات بلند فرما، ان کی حسنات کو قبول فرما، اور ہمیں صبرِ جمیل عطا فرما۔

اے اللہ! ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کی دینی، اخلاقی اور تحریکی میراث کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرما، اور جنت الفردوس میں دوبارہ ان کی رفاقت نصیب فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

ڈاکٹر محمد ندیم ارشد و محمد نعمان ارشد 

(فرزندان مرحوم محمد عبدالرشید صاحب)