قومی شاہراہ 44 پر ٹریفک کا بحران، 10 کلومیٹر تک گاڑیوں کی قطاریں کپٹی برج پر لاری اور سیمنٹ مکسچر ٹینکر میں تصادم، ون وے ٹریفک کے باعث حالات مزید سنگین؛ مسافر اور ڈرائیور شدید پریشان

قومی شاہراہ 44 پر ٹریفک کا بحران، 10 کلومیٹر تک گاڑیوں کی قطاریں

کپٹی برج پر لاری اور سیمنٹ مکسچر ٹینکر میں تصادم، ون وے ٹریفک کے باعث حالات مزید سنگین؛ مسافر اور ڈرائیور شدید پریشان

عادل آباد،6/ستمبر (تلنگانہ وائس) قومی شاہراہ 44 پر کپٹی برج کے قریب پیش آئے حادثے کے بعد ایچوڑہ اور نیراڈی گونڈہ منڈلوں کے حدود میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ شاہراہ پر دونوں جانب تقریباً 10 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

نیراڈی گونڈہ منڈل کے کپٹی برج کے قریب ٹماٹر سے لدی لاری اور سیمنٹ مکسچر ٹینکر کے درمیان آمنے سامنے تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر رک گئی۔

Advertising

کپٹی برج پہلے ہی جزوی طور پر متاثر ہے اور ایک جانب کی آمدورفت بند کرتے ہوئے دوسری جانب ون وے ٹریفک چلائی جارہی ہے۔ ایسے میں حادثے کے بعد باقی راستہ بھی بند ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے شاہراہ پر گاڑیوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔

Advertising

بعد ازاں ٹریفک بحال تو کردی گئی، تاہم ون وے نظام کے باعث گاڑیاں انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ کئی گھنٹوں تک جام میں پھنسے مسافروں اور ڈرائیوروں نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو ’’جہنم جیسی اذیت‘‘ قرار دیا۔

Advertising

ٹریفک کے مزید بگڑنے کے خدشے کے پیش نظر حکام نے احتیاطی اقدام کرتے ہوئے ایچوڑہ منڈل ہیڈکوارٹر پر آر ٹی سی بسوں کو روک دیا۔

Advertising

حکام کی جانب سے شاہراہ پر ٹریفک کو معمول پر لانے اور گاڑیوں کی روانی بحال کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

Advertising