طلبہ کو مثالی شہری بنانے کی ذمہ داری اساتذہ پر عائد ہوتی ہے ۔ضلع کلکٹر راجرشی شاہ
عادل آباد۔8/ستمبر (تلنگانہ وائس)
ضلع کلکٹر عادل آباد راجرشی شاہ نے کہا کہ طلبہ کو محض تعلیم یافتہ بنانے کے بجائے انہیں معاشرے کے لیے مفید اور مثالی شہری بنانا اساتذہ کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی شخصیت سازی اور مستقبل سنوارنے میں اساتذہ کا کردار نہایت اہم ہے۔

منگل کے روز عادل آباد مستقر میں ایس ٹی یو بھون میں منعقدہ یومِ اساتذہ تقریب میں ضلع ایس پی اکھل مہاجن آئی پی ایس کے ہمراہ کلکٹر راجرشی شاہ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ دونوں عہدیداروں نے شمع روشن کرکے تقریب کا افتتاح کیا اور ڈاکٹر سروے پلی رادھا کرشنن کے پورٹریٹ پر پھول نچھاور کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کلکٹر نے کہا کہ عادل آباد جیسے دور دراز اور ایجنسی علاقوں میں بھی خانگی اسکول تعلیمی ترقی کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ضلع میں تقریباً 59 ہزار طلبہ سرکاری اور 49 ہزار طلبہ خانگی اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں بعض والدین کو معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے مکمل واقفیت نہیں ہوتی، ایسے میں اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اس کمی کو پورا کرتے ہوئے طلبہ کو اقدار پر مبنی تعلیم اور زندگی گزارنے کی ضروری مہارتیں فراہم کریں۔
Advertising

کلکٹر نے خانگی اسکولوں کو ضلع کے تعلیمی کارکردگی اشاریہ میں بہتری کے لیے بنیادی سہولیات، اساتذہ کی تربیت اور لیبارٹریوں پر توجہ دینے کے ساتھ طلبہ کی تفصیلات UDISE+ میں بروقت درج کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے سرکاری و خانگی اسکولوں کو ایک دوسرے کے بہترین طریقۂ کار سے استفادہ کرنے اور سائنس پارکس و سائنس فئیر جیسے وسائل باہمی طور پر استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔
Advertising

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پینلز، کمپیوٹر تعلیم اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے طلبہ میں بنیادی خواندگی، درست تلفظ اور دیگر تعلیمی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے۔ طلبہ کو صرف نظری تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے عملی تعلیم پر بھی توجہ دی جائے۔
Advertising

کلکٹر نے خانگی اسکولوں میں بھی سرکاری اسکولوں میں جاری ’’صحت مند اسکول‘‘ پروگرام نافذ کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے طلبہ کو ذاتی صفائی، متوازن غذا، منشیات سے بچاؤ، ذہنی صحت اور شخصیت سازی کے بارے میں شعور فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ طلبہ کی دلچسپیوں کو پہچان کر انہیں مناسب کیریئر رہنمائی فراہم کرنے اور ان کے رویے میں منفی تبدیلی یا بری عادات نظر آنے کی صورت میں والدین کو فوری اطلاع دے کر کونسلنگ فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ خانگی اسکولوں کے مسائل کے حل کے لیے ضلع انتظامیہ اور محکمۂ تعلیم مکمل تعاون کریں گے۔


ضلع ایس پی اکھل مہاجن نے کہا کہ اساتذہ کا کام صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ طلبہ کو مستقبل کے ’’نیشن بلڈرز‘‘ کے طور پر تیار کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان زندگی میں چاہے کسی بھی مقام پر پہنچ جائے، اپنی کامیابی میں اساتذہ کی رہنمائی کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔
ایس پی نے طلبہ کو منشیات کے نقصانات سے واقف کرانے اور انہیں نشہ آور اشیاء سے دور رکھنے کے لیے اساتذہ کو خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی۔ بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کے پیش نظر طلبہ میں سائبر فراڈ سے متعلق شعور بیدار کرنے اور ان کے ذریعے والدین تک بھی یہ معلومات پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جرم کے بعد کارروائی کرنے والی پولیس کے مقابلے میں جرائم کی روک تھام کے لیے طلبہ میں اچھے اخلاق اور اقدار کو فروغ دینے میں اساتذہ کا کردار زیادہ اہم ہے۔
بعد ازاں سرکاری و خانگی اسکولوں میں بہترین خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو کلکٹر راجرشی شاہ اور ایس پی اکھل مہاجن نے توصیفی اسناد، مومنٹو اور شال پیش کرتے ہوئے تہنیت پیش کی۔
تقریب میں میونسپل چیئرپرسن بنڈاری انوشا، ضلع ایجوکیشن آفیسر مادھوی، ٹراسما کے نمائندوں پون راؤ اور آدیناتھ، امیر الدین کے علاوہ خانگی اسکولوں کے انتظامیہ، ہیڈ ماسٹرس، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔

