کانگریس حکومت کسانوں سے کیے گئے وعدوں سے منحرف، زرعی شعبہ بحران کا شکار “گمپا گووردھن “

کانگریس حکومت کسانوں سے کیے گئے وعدوں سے منحرف، زرعی شعبہ بحران کا شکار “گمپا گووردھن “

تلنگانہ وائس

کاماریڈی ۔20جون(سیدکوثرعلی کی رپورٹ)سابق رکنِ اسمبلی گمپا گووردھن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی کانگریس حکومت پر کسان مخالف پالیسیاں اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کابینہ اجلاس میں کسانوں سے متعلق کیے گئے فیصلے حکومت کی بے حسی اور ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔گمپا گووردھن کے مطابق مختلف علاقوں میں کسان احتجاج کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت کے دور میں 24 گھنٹے مفت بجلی، دھان کی وسیع کاشت اور کسان دوست اسکیموں کے باعث تلنگانہ زرعی میدان میں نمایاں مقام پر پہنچا، جبکہ موجودہ حکومت انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت دھان کی محدود خریداری اور مخصوص اقسام کی فصلوں کی شرط عائد کر کے کسانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسان بیمہ کی پریمیم کی ادائیگی اور کسان بھروسہ اسکیم کی قسطوں میں بھی کوتاہی برتی جا رہی ہے، جس سے کسان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔بی آر ایس رہنما نے مطالبہ کیا کہ کھاد کی تقسیم کے موجودہ نظام کو ختم کر کے کسانوں کو براہِ راست کھاد فراہم کی جائے، ورنہ بڑے پیمانے پر احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت مختلف وعدوں کے ذریعے اقتدار میں آئی، لیکن اب عوام اور کسانوں کی توقعات پوری کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔گمپا گووردھن نے یہ بھی کہا کہ بی آر ایس پارٹی ہمیشہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور ریاست میں علاقائی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کی کوششوں کی مخالفت جاری رکھے گی