سنگارینی میں ایک ماہ کے اندر ڈپینڈنٹ ملازمتیں فراہم کی جائیں ۔ کے کویتا
بصورت دیگر بھوک ہڑتال کا انتباہ، بھوپال پلی میں پارٹی پرچم کشائی تقریب سے خطاب
بھوپال پلی۔20/جون(تلنگانہ وائس) تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کے کویتا نے سنگارینی مزدوروں کے مسائل پر حکومت کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک ماہ کے اندر ڈپینڈنٹ ملازمتوں کی فراہمی عمل میں نہ آئی تو وہ بھوپال پلی میں بھوک ہڑتال منظم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں سے وہ مسلسل سنگارینی مزدوروں اور ان کے خاندانوں سے ملاقات کر رہی ہیں اور ان کی مشکلات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
کویتا نے کہا کہ ایک بزرگ مزدور نے جب ڈپینڈنٹ ملازمت کے مسئلہ پر اپنی فریاد سنائی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کی بددعائیں اور آہیں کسی بھی حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئلہ کانوں کے اطراف رہنے والے عوام اور ریٹائر ہونے والے ملازمین اپنے بچوں اور اہل خانہ کے لیے سنگارینی میں ملازمتوں کی امید رکھتے ہیں، مگر حکومت میڈیکل بورڈ تشکیل نہ دے کر ہزاروں خاندانوں کو مایوسی کا شکار بنا رہی ہے۔

کویتا نے اعلان کیا کہ بھوپال پلی میں ان کی پارٹی کا پہلا پرچم لہرایا گیا ہے اور آنے والے دنوں میں پارٹی یہاں اسمبلی نشست بھی حاصل کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی جماعت ہمیشہ مزدوروں اور غریب عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے مقصد سے تلنگانہ رکشنا سینا قائم کی گئی ہے۔ عوام سے حمایت کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انتخابات کے دوران چھ گارنٹیوں کے وعدے کیے گئے تھے لیکن مفت بس اسکیم کے سوا کوئی اہم وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔
کویتا نے کہا کہ مفت بس اسکیم کے باوجود عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور ریاست میں بسوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بزرگ شہریوں اور معذور افراد کے لیے بھی مفت سفری سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر کٹ سمیت کئی فلاحی اسکیمیں بند کر دی گئی ہیں اور عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین آج بھی رہائشی مکانات کی منتظر ہیں اور حقیقی مستحقین کو گھر فراہم نہیں کیے گئے۔ ان کی پارٹی غریب خواتین کو مکانات دلانے کے لیے جدوجہد کرے گی۔
بھوپال پلی کی پسماندگی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ضلع مرکز ہونے کے باوجود یہاں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے، کئی پل خستہ حال ہیں اور آؤٹر رنگ روڈ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی مفادات کے تحت سڑکوں کے منصوبوں میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آؤٹر رنگ روڈ کے لیے زمین دینے والے متاثرین کو مناسب معاوضہ ادا کیا جائے۔ اس کے علاوہ اوپن کاسٹ کان کنی کے لیے زمینیں دینے والے خاندانوں کو بھی فوری طور پر معاوضہ فراہم کیا جائے۔
کویتا نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مزدوروں، متاثرین اور عوامی مسائل کے حل میں مزید تاخیر کی گئی تو تلنگانہ رکشنا سینا ریاست بھر میں سخت احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔

