اضلاع کے اردو صحافی آخر کب تک نظر انداز ہوتے رہیں گے؟
وقت آگیا ہے کہ تلنگانہ حکومت اور اردو اکیڈیمی عملی قدم اٹھائیں
تحریر:صحافی خضر احمد یافعی
ایڈیٹر ان چیف تلنگانہ وائس
اردو صحافت ہمیشہ وسائل کی کمی کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہے، لیکن آج سب سے زیادہ کسمپرسی کا شکار اگر کوئی ہے تو وہ اضلاع میں کام کرنے والا اردو صحافی ہے۔ وہ صحافی جو نہ دن دیکھتا ہے، نہ رات؛ نہ گرمی کی پروا کرتا ہے، نہ بارش کی۔ صرف اس لیے کہ عوام تک بروقت اور مستند خبریں پہنچ سکیں۔
ہر روز کسی نہ کسی پریس کانفرنس، سیاسی جلسے، مذہبی تقریب، سماجی پروگرام، سرکاری تقریب یا عوامی مسئلے کی کوریج کے لیے یہ صحافی اپنی جیب سے پیٹرول ڈلواتا ہے، اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی استعمال کرتا ہے، اپنا وقت، محنت اور وسائل خرچ کرتا ہے، مگر اس کے بدلے اسے نہ مناسب معاوضہ ملتا ہے اور نہ ہی مستقل تنخواہ۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تلنگانہ کے بیشتر اضلاع میں کام کرنے والے اردو اخبارات اور اردو نیوز چینلوں کے نمائندوں کو اداروں کی جانب سے باقاعدہ تنخواہ نہیں دی جاتی۔ اگر کہیں کوئی معمولی اعزازیہ مل بھی جائے تو وہ نہایت محدود ہوتا ہے، جبکہ زیادہ تر نمائندے اشتہارات کے معمولی کمیشن پر انحصار کرتے ہیں۔ اشتہار حاصل کرنا، رقم وصول کرنا اور ادارے تک پہنچانا بھی انہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ معاشرے میں آج بھی یہ غلط فہمی عام ہے کہ صحافیوں کو بڑی تنخواہیں ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی سیاسی، سماجی یا مذہبی شخصیت کو اپنی خبر، تصویر یا بیان شائع کروانا ہوتا ہے تو وہ بار بار صحافی سے رابطہ کرتی ہے، لیکن جب اخبار یا نیوز چینل کے لیے اشتہار دینے کی درخواست کی جاتی ہے تو اکثر جواب ملتا ہے، "اگر مفت میں خبر لگانی ہے تو لگا دیں، ورنہ رہنے دیں۔”
کچھ قائدین تو یہ کہنے سے بھی نہیں چوکتے کہ "ہم عوامی لیڈر ہیں، اخباری لیڈر نہیں۔” حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ انتخابات میں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں، بڑے بڑے ہورڈنگز، بینرز اور تشہیری مہمات پر خطیر رقم صرف کرتے ہیں، مگر اردو صحافت کی مالی معاونت کی بات آئے تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ صرف ایک صحافی کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ اردو زبان اور اردو صحافت کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔
اضلاع کے اردو صحافی صرف خبر نویس نہیں بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک مضبوط پل ہیں۔ وہ دیہی علاقوں کے مسائل، عوامی شکایات، سماجی ناانصافیوں اور ترقیاتی امور کو اربابِ اقتدار تک پہنچاتے ہیں۔ اگر یہی صحافی معاشی مسائل میں الجھے رہیں گے تو صحافت کا معیار بھی متاثر ہوگا۔
اسی لیے وقت کا تقاضا ہے کہ تلنگانہ حکومت، وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، اقلیتی بہبود کے وزیر محمد اظہر الدین، مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی، حکومتی مشیر محمد علی شبیر، ٹی ایم آر ای ایس چیئرمین فہیم قریشی، تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے چیئرمین طاہر بن حمدان، تمام مسلم عوامی نمائندے، صحافتی تنظیمیں، اردو اخبارات اور اردو نیوز چینلوں کی انتظامیہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں۔
تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے تحت ایک مستقل اور شفاف اسکیم متعارف کرائی جانی چاہیے، جس کے ذریعے ان ورکنگ اردو صحافیوں کو، جن کی واحد پیشہ ورانہ شناخت صحافت ہے اور جن کے پاس کوئی دوسرا ذریعۂ معاش نہیں، ماہانہ پانچ ہزار سے دس ہزار روپے تک اعزازیہ فراہم کیا جائے۔ اس کے لیے واضح ضابطے، رجسٹریشن، جانچ اور نگرانی کا مضبوط نظام بنایا جا سکتا ہے تاکہ صرف حقیقی اور فعال صحافی ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی سیاسی، سماجی، مذہبی، تعلیمی اور تجارتی شخصیات کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہوگی۔ اردو اخبارات اور نیوز چینلوں کو اشتہارات دینا کسی فرد پر احسان نہیں بلکہ اردو صحافت کے استحکام، اردو زبان کی بقا اور عوامی شعور کی خدمت میں تعاون ہے۔
آج ضرورت صرف ہمدردی کے چند الفاظ کی نہیں بلکہ عملی فیصلوں کی ہے۔ اگر حکومت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے تو اردو صحافی بھی اس اعتراف کے مستحق ہیں، کیونکہ وہ خاموشی سے معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں۔
یہ صرف چند صحافیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اردو صحافت کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر آج مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو کل شاید اضلاع میں اردو صحافت کی وہ مضبوط آواز سنائی نہ دے، جو برسوں سے عوام اور حکومت کے درمیان ایک قابلِ اعتماد رابطہ بنی ہوئی ہے۔

