صحافت اور کانٹینٹ کریئیشن کے درمیان ایک ضروری حد . امتیاز ندوی . ضلع نامہ نگار، 4TV نیوز (سیٹلائٹ)

صحافت اور کانٹینٹ کریئیشن کے درمیان ایک ضروری حد

امتیاز ندوی

ضلع نامہ نگار، 4TV نیوز (سیٹلائٹ)

بحوالا یو این اے نیوز

https://www.facebook.com/share/p/1BEggwScSz/

عادل آباد۔ے17/جولائی(تلنگانہ وائس)

کل ایک قتل کے واقعے کی گراؤنڈ رپورٹنگ کے سلسلے میں میری موجودگی ضلع جون پور کے سونگر گاؤں میں تھی، جہاں راشدہ نامی خاتون کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

موقع پر پولیس موجود تھی، متاثرہ خاندان کے بیانات لیے جا رہے تھے اور انہیں تسلی دی جا رہی تھی۔ تقریباً تمام صحافی خبر سے متعلق ضروری ویژولز اور بیانات حاصل کر چکے تھے۔

اس کے باوجود وہاں بڑی تعداد میں کانٹینٹ کریئیٹرز صرف "کچھ الگ” مواد کی تلاش میں مصروف تھے۔ کئی افراد بلا ضرورت متاثرہ خاندان کے گھر کے اندر جھانک رہے تھے، ہر کونے کی ویڈیو بنا رہے تھے اور ایسے سوالات پوچھنے کی کوشش کر رہے تھے جن کا تصور بھی کوئی مہذب شخص غمزدہ بھائی، بہن، ماں یا باپ سے نہیں کر سکتا۔

سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوا جب کیمروں میں ان خواتین کے چہرے بھی قید کیے جا رہے تھے جو واضح طور پر اپنا چہرہ چھپانا چاہتی تھیں۔ یہ ایک ایسا خاندان تھا جہاں سماجی اور مذہبی روایات کے مطابق خواتین کے پردے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، لیکن کچھ لوگوں کے لیے اس وقت سب سے اہم چیز ایسا ویڈیو بنانا تھا جسے جذباتی موسیقی کے ساتھ ریلز، شارٹس یا یوٹیوب پر اپ لوڈ کر کے زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کیے جا سکیں۔

صحافت ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ اس کا آزاد ہونا ضروری ہے، لیکن ہر آزادی کی ایک حد اور اخلاقی دائرہ بھی ہوتا ہے۔ خبر دکھانا ہمارا فرض ہے، مگر کسی کے غم، نجی زندگی اور عزتِ نفس کی قیمت پر نہیں۔

رپورٹنگ کے دوران ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے سوالات کا اثر صرف کیمرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ براہِ راست متاثرہ خاندان کے دل و دماغ اور معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ اسی طرح ویژولز لیتے وقت یہ یقینی بنانا بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ کسی کی عزت، پردے یا نجی زندگی کو نقصان نہ پہنچے۔

میں خود مسلمان ہوں، لیکن اگر کسی غیر مسلم خاندان میں بھی رپورٹنگ کے لیے جاتا ہوں تو گھر کے اندر ویڈیو بنانے سے پہلے وہاں موجود خواتین کو آگاہ کرتا ہوں اور ان کی اجازت لینے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ ہر گھر کا ماحول مختلف ہوتا ہے۔ جو تصویر یا ویڈیو ہمیں محض ایک "ویژول” یا "کانٹینٹ” محسوس ہوتی ہے، وہی کسی خاندان کے لیے شرمندگی، بے چینی یا مستقبل میں مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔

میرا مقصد کسی فرد یا طبقے پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ صرف یہ کہنا ہے کہ اگر ہم صحافی ہیں یا کانٹینٹ کریئیٹر، تو سب سے پہلے ہمیں انسان ہونا چاہیے۔ آج کل بعض نیوز ہینڈلز پر ایسے ویڈیوز جذباتی موسیقی کے ساتھ وائرل کیے جا رہے ہیں جن کا خبر سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہیں صرف اس لیے بنایا اور شیئر کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ چینل یا پیج کی طرف متوجہ ہوں۔

اس لیے یاد رکھیے، خبر سے پہلے انسانیت ہونی چاہیے۔

Advertising