کالیشورم پراجکٹ کی بحالی 2027 کے موسمِ گرما تک مکمل ہوگی: اتم کمار ریڈی
حیدرآباد، 10/ جون (تلنگانہ وائس)
ریاستی وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے کہا ہے کہ حکومتِ تلنگانہ کالیشورم لفٹ اریگیشن اسکیم (KLIS) کے متاثرہ بیراجوں کی بحالی کے لیے واضح تکنیکی منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور اس کام کو 2027 کے موسمِ گرما تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز پراجکٹ مقام پر جاری تحقیقات، جانچ اور بحالی منصوبہ بندی کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ ہائیڈرولوجیکل اسٹڈیز، جی پی آر ٹیسٹ، جیو ٹیکنیکل بور ہول تحقیقات اور دیگر تکنیکی معائنوں کو تیز رفتاری سے انجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر ابتدائی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں جبکہ بقیہ مطالعات جون کے اختتام یا جولائی کے پہلے ہفتہ تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
اشتہار۔ ۔۔۔۔۔۔Advertisment

اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تحقیقات کی رپورٹوں کی بنیاد پر تفصیلی بحالی ڈیزائن تیار کرکے سنٹرل واٹر کمیشن اور نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کو منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق مانسون کے بعد نومبر کے اختتام یا دسمبر کے پہلے ہفتہ سے عملی بحالی کاموں کا آغاز متوقع ہے۔

وزیر نے واضح کیا کہ حکومت کی کوشش رہے گی کہ ایک ہی ورکنگ سیزن میں تمام ضروری کام مکمل کرتے ہوئے میڈیگڈہ، انّا رام اور سُندیلا بیراجوں کو 2027 کے موسمِ گرما تک دوبارہ فعال بنا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیگڈہ بیراج کو جون 2027 تک مکمل طور پر آپریشنل بنانے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے میں دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ اس کی توجہ جوابدہی، تحفظ اور پراجکٹ کی تکمیل پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں کی گئی تکنیکی اور انتظامی غلطیوں کے باعث پراجکٹ کو شدید نقصان پہنچا۔
اتم کمار ریڈی نے دعویٰ کیا کہ سابقہ کانگریس حکومت نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر پرانہیتا-چیویلا پراجکٹ کا آغاز تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے کیا تھا اور 2014 تک اس کا ایک تہائی کام مکمل ہو چکا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعد میں سابق بی آر ایس حکومت نے پراجکٹ کا رخ تبدیل کرتے ہوئے اس کی لاگت ایک لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کرا دی، جبکہ سی اے جی کے اندازوں کے مطابق یہ رقم تقریباً 1.45 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔

وزیر نے کہا کہ اکتوبر 2023 میں بیراجوں کو پہنچنے والا نقصان سابق حکومت کے دور میں پیش آیا تھا اور بعد میں مرکزی ایجنسیوں نے ڈیزائن، تعمیر اور آپریشن سے متعلق سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔ اسی لیے موجودہ حکومت نے عدالتی کمیشن اور نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی کے ذریعے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی شہرت یافتہ کنسلٹنسی AFRY اور کے اشتراک سے بحالی ڈیزائن تیار کیا جا رہا ہے جبکہ تکنیکی مطالعات اور ماڈل ٹیسٹنگ انجام دے رہا ہے۔ متعدد قومی اور بین الاقوامی ماہرین بھی اس عمل میں شریک ہیں۔
اتم کمار ریڈی نے کہا کہ نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی نے اسکور ڈیپتھ، کٹ آف ڈیپتھ، ٹیل واٹر ریٹنگ کرو، انرجی ڈِسیپیشن انتظامات، ماڈل اسٹڈیز اور گیٹ آپریشن سے متعلق کئی اہم مسائل کی نشاندہی کی تھی جن کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں تمام ڈیزائن اور مرمتی کام صرف سی ڈبلیو سی اور این ڈی ایس اے کی منظوری سے ہی انجام دیے جائیں گے تاکہ بیراج آئندہ کئی دہائیوں تک محفوظ اور کارآمد رہ سکیں۔

اس جائزہ اجلاس میں محکمہ آبپاشی کے سکریٹری سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔

