*حرمین شریفین کا مقدس سفر، خوش نصیبوں کا مقدر*
مدرسہ فیض القاسم حراپور کی ہر سال ایک خادمِ دین کے مفت عمرہ سفر مہم کے تحت مولانا اظہر حسامی کے عمرہ روانگی کے موقع پر وداعی تقریب
عادل آباد۔5/اگست(تلنگانہ وائس نیوز)
مولانا محمد الیاس منتظم مدرسہ فیض القاسم حراپور اندرویلی کی تفصیلات کے بموجب مدرسہ فیض القاسم ٹرسٹ حراپور کی جانب سے چند خاص مخیر احباب کے تعاون سے ایک تحریک کا آغاز اس عنوان سے کیا گیا تھا کہ ادارہ سے مربوط ہوکر علاقہ میں دینی خدمات انجام دینے والے خدامِ دین میں سے ہر سال ایک خادم دین کو قرعہ اندازی کے ذریعے عمرہ کا مقدس سفر کرایا جائے، الحمدللہ سعادت مند احباب کے اس تحریک کا حصہ بننے پر تاہنوز 3 خادمِ دین علماء کرام نے اس مہم سے اپنا مقدر آزمایا اورچمکایا ہے، اس مہم کی چوتھی کڑی کی حیثیت سے مولانا اظہر حسامی مدرس مدرسہ فیض القاسم ٹرسٹ حراپور 7 اگست بروز جمعہ حیدرآباد سے اپنے والدین کے ساتھ حرمین شریفین کا مقدس سفر فرمارہے ہیں، اسی مناسبت سے مدرسہ فیض القاسم ٹرسٹ حراپور میں ایک تقریب منعقد کی گئی، اس موقع پر مولانا سیدرضوان اسعدی نگران مدرسہ ہذا نے کہا کہ حرمین شریفین کا سفر یقینا خوش نصیبوں کا مقدر ہوتا ہے، وہاں کی حاضری ، روحانی ماحول خدائے ذوالجلال کی بڑی نعمت ہے، اللہ تعالی نے اس سرزمین کے متعدد مقامات کو دعاوءں کی قبولیت کے لئے متبرک بنایا ہے، اور یہ موقع عازمین کے لئے روحانی اصلاح کا اہم ذریعہ ہوتا ہے، وہاں قیام کے لمحات کی قدردانی کرنے والے بہت کچھ حاصل کرلیتے ہیں، مولانا نے کہا کہ خادمینِ دین کے لئے یہ عظیم موقع فراہم کرنے میں اہم اور مخلصانہ کردار محبین ومعاونین کا ہے نیز واضح رہیکہ اس خدمت میں ادارہ کے تعاون کا کوئی روپیہ شامل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لئے ایک جداگانہ مستقل نظام ہے جس کی بنیاد باہمی اعتماد اور عنداللہ اجروثواب کے حصول کا جذبہ ونیت ہے، اس موقع پر مولانا اظہر حسامی عازم عمرہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا یہ مقدس سفر خدمتِ دین کا صلہ ہے، میں انتظامیہ اور خاص مخیر بندگانِ خدا کا مشکور ہوں جنہوں نے یہ موقع خدامِ دین کے لئے فراہم کیا، اس موقع پر مولانا اظہر حسامی کی شال پوشی کی گئی، اس تقریب میں مولانا سیدرضوان اسعدی ، محمد مسعود صاحب، محمد داوءد صاحب صدر مدرسہ، حافظ سفیان صاحب امام وخطیب مسجد عمرفاروق اندرویلی، مولانا مظہر حسامی، حافظ احتشام ، مولوی ساحل اور ادارہ کے طلبہء عزیز موجود تھے۔


