جعلی آیورویدک علاج کے نام پر لاکھوں کی ٹھگی کرنے والا بین الریاستی گروہ کا سرغنہ گرفتار، عدالتی ریمانڈ پر روانہ
عادل آباد، 3/جولائی (تلنگانہ وائس)
عادل آباد ون ٹاؤن پولیس نے جعلی آیورویدک علاج کے نام پر معصوم اور بیمار افراد کو لاکھوں روپے کا چونا لگانے والے بین الریاستی گروہ کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے اسے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت 28 سالہ پون کمار عرف کمار، بابا اور گلبرگہ کمار، ساکن گلبرگہ (ریاست کرناٹک) کے طور پر ہوئی ہے، جو گزشتہ ایک سال سے مفرور تھا۔
ون ٹاؤن انسپکٹر بی سنیل کمار نے بتایا کہ ملزم اسپتالوں کے باہر آنے والے مریضوں، خواتین، بچوں اور ضعیف افراد کو نشانہ بناتا تھا۔ گروہ کے افراد پہلے مریضوں سے ہمدردی جتاتے، پھر یہ یقین دلاتے کہ وہ بھی اسی بیماری میں مبتلا تھے لیکن آیورویدک دوا سے مکمل صحت یاب ہوگئے۔ اس طرح متاثرین کے موبائل نمبر حاصل کیے جاتے تھے۔

بعد ازاں مرکزی ملزم خود کو آیورویدک ڈاکٹر ظاہر کرکے متاثرین سے رابطہ کرتا اور اپنے ساتھیوں کو ان کے گھروں پر بھیجتا، جہاں ناریل، بادام، تلسی کے پتے، ہلدی اور الائچی وغیرہ ملا کر علاج کا ڈرامہ رچایا جاتا۔ پھر مخصوص جڑی بوٹیوں کے نام پر جعلی ادویات ہزاروں روپے فی گرام کے حساب سے فروخت کرکے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے تھے۔
Advertisment

پولیس کے مطابق ایک متاثرہ شخص نے اپنی جسمانی معذوری کا شکار بیٹی کے علاج کے نام پر 75 ہزار 500 روپے آن لائن ادا کیے تھے، جس کی شکایت پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ اس کیس میں گزشتہ سال گروہ کے آٹھ افراد کو گرفتار کیا جاچکا تھا جبکہ مرکزی ملزم فرار تھا، جسے اب گرفتار کر لیا گیا ہے۔
Advertisment

پولیس نے بتایا کہ اس گروہ کے خلاف عادل آباد، نرمل، سدی پیٹ، سوریہ پیٹ اور کھمم اضلاع میں بھی متعدد مقدمات درج ہیں، جبکہ صرف عادل آباد ضلع میں اس کے خلاف آٹھ مقدمات موجود ہیں۔
یہ مقدمہ ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں کرائم نمبر 461/2025 کے تحت بی این ایس کی دفعات 318(4)، 316(5) اور 61(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
انسپکٹر بی سنیل کمار نے عوام سے اپیل کی کہ بیماری کی صورت میں کسی نامعلوم شخص یا جھوٹے دعوؤں پر یقین نہ کریں بلکہ صرف مستند سرکاری یا نجی ڈاکٹروں سے ہی علاج کروائیں۔ اگر کوئی شخص جعلی علاج کے نام پر رقم طلب کرے تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن کو اطلاع دیں۔

