کنی پلی پمپ ہاؤس کے دورے میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام، کانگریس حکومت پر کے ٹی آر کی شدید تنقید

تلنگانہ وائس | خصوصی رپورٹ

کنی پلی پمپ ہاؤس کے دورے میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام، کانگریس حکومت پر کے ٹی آر کی شدید تنقید

عادل آباد/جئے شنکر بھوپال پلی، 5 جولائی(تلنگانہ وائس) بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا کہ کنی پلی پمپ ہاؤس کے دورے کو روکنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کے ذریعے ہر مقام پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ کنی پلی پمپ ہاؤس کے معائنے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سے کنی پلی پہنچنے کے دوران پیمبرتی، جنگاؤں، گھن پور، پرکالہ، بھوپال پلی، کتارم اور مہادیو پور سمیت مختلف مقامات پر پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔

کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس کا یہ دورہ سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ کسانوں اور آبپاشی کے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعلیٰ کے۔ چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کی قیادت میں تعمیر کیا گیا کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ دنیا کا سب سے بڑا لفٹ اریگیشن منصوبہ ہے، جس کے ذریعے تلنگانہ کے بالائی علاقوں تک گوداوری کا پانی پہنچایا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کی نااہلی کے باعث کالیشورم منصوبہ مؤثر طریقے سے استعمال نہیں ہو رہا، جبکہ کنی پلی کے قریب وافر مقدار میں پانی موجود ہونے کے باوجود اسے کسانوں تک نہیں پہنچایا جا رہا اور لاکھوں کیوسک پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت فوری طور پر پمپ ہاؤس کے موٹرز شروع نہیں کرتی تو بی آر ایس پچاس ہزار کارکنوں کے ساتھ کنی پلی پہنچ کر خود موٹرز چلانے کی تحریک شروع کرے گی۔

کے ٹی آر نے کہا کہ کالیشورم منصوبہ سات اضلاع کو آبپاشی اور پینے کا پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس دورِ حکومت میں کسانوں کی فلاح، مفت بجلی، رعیتو بندھو، رعیتو بیمہ اور آبپاشی منصوبوں پر لاکھوں کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جس سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا اور کسانوں کی خودکشیوں میں کمی آئی۔

اس موقع پر قائد حزب اختلاف مدھو سودن اچاری، سابق وزراء جگدیش ریڈی، گنگولا کملہاکر، ستیہ وتی راٹھوڑ، کوپولا ایشور، رکن پارلیمنٹ وڈدی راجو روی چندر، متعدد ارکان اسمبلی، سابق ارکان پارلیمنٹ، سابق ارکان اسمبلی، پارٹی کے سینئر قائدین اور ہزاروں بی آر ایس کارکنان بھی موجود تھے۔