والدین کی خدمت اور بڑوں کا ادب و احترام — اسلام کی روشن تعلیمات ۔
تحریر ۔ حافظ ابوبکر حامد ضلع صدر جمعیتہ (محمودمدنی) علماء ہند عادل آباد

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات کا درس دیتا ہے بلکہ معاشرتی زندگی میں حسنِ اخلاق، والدین کی خدمت اور بڑوں کے ادب و احترام کی بھی تلقین کرتا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں والدین کی اطاعت اور بزرگوں کی عزت کو نہایت اہم مقام دیا گیا ہے، کیونکہ ایک مہذب اور صالح معاشرے کی بنیاد انہی اقدار پر قائم ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
"اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔”
(سورۃ الإسراء: 23)
اسی آیت میں مزید فرمایا گیا کہ والدین کے سامنے کبھی "اُف” تک نہ کہو، انہیں نہ جھڑکو بلکہ ہمیشہ عزت و محبت کے ساتھ بات کرو۔ یہ تعلیم اس بات کی واضح دلیل ہے کہ والدین کی خدمت صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت بھی ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی۔”
(سورۃ لقمان: 14)
رسول اللہ ﷺ نے والدین کی رضا کو اللہ تعالیٰ کی رضا قرار دیتے ہوئے فرمایا:
"اللہ کی رضا والد کے راضی ہونے میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کے ناراض ہونے میں ہے۔”
حوالہ: Jami’ at-Tirmidhi، حدیث: 1899
ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔”
حوالہ: Jami’ at-Tirmidhi، حدیث: 1921 (اسی مفہوم کی روایت Sunan Abi Dawud میں بھی موجود ہے۔)
اسلامی تعلیمات کے مطابق بزرگ افراد ہمارے معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کے تجربات، دعائیں اور رہنمائی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ والدین اور بزرگوں کی خدمت کرنے والے افراد دنیا میں عزت اور آخرت میں عظیم اجر و ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں جہاں مصروفیات اور مادّی دوڑ نے خاندانی رشتوں کو متاثر کیا ہے، وہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کی دعائیں حاصل کریں اور ہر بزرگ کا ادب و احترام اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا اور ایک خوشحال، پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو والدین کی خدمت، بزرگوں کے احترام اور اسلامی اخلاق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

