عادل آباد کی قدیم بیف مارکیٹ زوال کی طرف، بحالی اور اصلاحِ احوال کی ضرورت
07/07/2026 منگل
(تلنگانہ وائس ڈیسک خصوصی رپورٹ)
Adilabad Beef Markit
عادل آباد کے محلہ بکل گوڑہ اور کولی پورہ میں واقع قدیم بیف مارکیٹ، جو ماضی میں عادل آباد شہر کی ایک اہم تجارتی شناخت اور گوشت کے کاروبار کا مرکزی مرکز سمجھی جاتی تھی، آج اپنی پرانی پہچان کھوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
مقامی صورتحال کے مطابق قریشی برادری سے تعلق رکھنے والے گوشت فروشوں کی اکثریت اب مرکزی شاہراہوں کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ مسعود چوک سے عبداللہ چوک کے درمیان، مسجد گلزار، ساتنالا روڈ اور بشیر کرانہ کے اطراف میں کرایہ کی دکانوں میں کاروبار زیادہ فعال انداز میں جاری ہے، جس کے باعث قدیم بیف مارکیٹ میں صرف چند ہی تاجر اپنی روایتی دکانوں کے ذریعے کاروبار کر رہے ہیں۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں پرانی بیف مارکیٹ اپنی اصل رونق اور شناخت سے محروم ہوتی جا رہی ہے، جو کبھی روزگار اور تجارت کا ایک مضبوط مرکز تصور کی جاتی تھی۔
مقامی سماجی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو یہ قدیم شناخت مکمل طور پر ماند پڑ سکتی ہے۔
اس مارکیٹ کی ترقی اور بہتری کے لیے سابق میونسپل وائس چیئرمین ظہیر رمضانی کی کوششوں کو مقامی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جنہوں نے اس تجارتی مرکز کی بحالی کے لیے مختلف اقدامات کیے تھے۔
ماہرین اور مقامی حلقوں کے مطابق بیف مارکیٹ کو دوبارہ فعال اور مثالی بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
– تاجروں کے درمیان اتحاد اور منظم حکمت عملی
– مارکیٹ کی صفائی، تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی بحالی
ٹھیکیدار کومجلس بلدیہ کی جانب سے ماضی میں دیا گیا لاکھوں کا فنڈکا حساب لیکر باقی کاموں کو پائے تکمیل تک ہہنچانا
– کاروباری اخلاقیات پر تربیتی ورکشاپس کا انعقاد
– مقامی انتظامیہ اور سماجی قیادت کی مشترکہ توجہ
– تاریخی تجارتی شناخت کے تحفظ کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی
اخلاقی تربیت اور رویے سے متعلق سوالات
مقامی سطح پر یہ بھی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ بعض قریشی برادری کے افراد کی جانب سے گاہکوں کے ساتھ رویہ بعض اوقات بہتر نہیں رہتا، اور بدتمیزی، بداخلاقی اور تلخ گفتگو جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ اسی تناظر میں یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ کاروباری اخلاقیات کی بہتری اور تربیتی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ اعتماد اور کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
وضاحت
یہ خبر کسی بھی صورت میں قریشی برادری کے خلاف یا ان کے روزگار کے خلاف نہیں ہے۔ بلکہ اس کا بنیادی مقصد عادل آباد کی اس تاریخی بیف مارکیٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس کی بحالی، بہتری اور تحفظ کی طرف توجہ دلانا ہے۔ قریشی برادری اس تجارت کا اہم حصہ ہے اور ان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ تجزیہ صرف مجموعی نظام، مارکیٹ کی حالت اور اس کی تاریخی شناخت کے حوالے سے کیا گیا ہے۔
اختتامی بات
عادل آباد کی قدیم بیف مارکیٹ صرف ایک کاروباری جگہ نہیں بلکہ شہر کی سماجی و معاشی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی بحالی اور ترقی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر سنجیدہ اور مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ یہ تاریخی شناخت دوبارہ اپنی رونق حاصل کر سکے۔

