عادل آباد میں ایس آئی آر مہم جاری، بعض علاقوں میں سیاسی مداخلت اور بے قاعدگیوں کی شکایات ۔ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر متحد ہونے کی ضرورت

ایس آئی آر: ذاتی سیاست سے بالاتر ہوکر عوامی خدمت کا وقت

عادل آباد۔6/جولائی(تلنگانہ وائس ڈیسک)ملک بھر کی طرح ریاست تلنگانہ میں بھی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے تحت ووٹر اینومریشن کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ ضلع عادل آباد کے تمام 49 وارڈوں میں 24 جولائی تک گھر گھر پہنچ کر اینومریشن فارم تقسیم کرنے، آن لائن اندراج اور عوام کی رہنمائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مہم میں سرکاری بی ایل اوز، مختلف سیاسی جماعتوں کے بی ایل ایز، سماجی تنظیمیں، عوامی نمائندے اور رضاکار سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ مختلف مقامات پر عوام کی سہولت کے لیے مفت ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔

ضلع کلکٹر مسلسل عہدیداروں کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنے نام ووٹر فہرست میں درج کروانے کے لیے بروقت تعاون کریں، کیونکہ یہ ہر شہری کے جمہوری حق سے متعلق ایک نہایت اہم عمل ہے۔

تاہم اس دوران ضلع کے بعض وارڈوں  بالخصوص مسلم محلوں سے تشویشناک شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر سرکاری بی ایل اوز کے لاگ اِن اور پاس ورڈ استعمال کرکے مخصوص افراد کے اینومریشن فارم بھرے جا رہے ہیں، جبکہ بعض مخالفین کے فارم بھرنے میں تاخیر، غفلت یا فارم گم ہونے جیسے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

اسی طرح یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں کے بی ایل ایز کو نہ تو ایس آئی آر کے قواعد و ضوابط کی مکمل معلومات ہیں اور نہ ہی وہ مطلوبہ تربیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کو درست رہنمائی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے۔ دوسری جانب یہ حقیقت بھی قابلِ ستائش ہے کہ متعدد بی ایل اوز اور بی ایل ایز انتہائی دیانت داری اور محنت کے ساتھ عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے اس مہم کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

Advertisment

سماجی و مذہبی قائدین، عوامی نمائندوں اور تمام سیاسی جماعتوں پر یہ مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی اختلافات، سیاسی رقابتوں اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر عوام کے جمہوری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ہر اہل شہری تک فارم پہنچانا، اس کی درست تکمیل میں مدد کرنا اور کسی بھی قسم کی جانبداری سے گریز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Advertisment

عوام نے ضلع کلکٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حساس معاملے میں موصول ہونے والی شکایات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، خود مختلف سلم بستیوں اور اقلیتی علاقوں کا دورہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر مستحق شہری تک ایس آئی آر کی سہولت بلا امتیاز پہنچے۔

ایس آئی آر صرف ایک سرکاری مہم نہیں بلکہ جمہوری نظام کی بنیاد کو مضبوط بنانے کا عمل ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ افراد دیانت داری، شفافیت اور باہمی تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تاکہ کوئی بھی شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہ جائے۔